سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 391
391 لوگ تھے اگر سوچ میں یا سمجھ میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے لیکن ان کے ذہن میں غالباً ایسے ن مسلم تھے جن پر عبادت آسان نہیں تھی۔پس آغاز میں انہوں نے عبادت سے تو نہیں روکا ہوگا۔میں ہرگز یقین نہیں کر سکتا کہ ان سلسلوں کے جو بانی مبانی تھے انہوں نے عبادت کے مقابل پر ذکر پیش کیا ہو گا لیکن عبادت کا چسکا پیدا کرنے کے لئے ، عبادت سے تعلق جوڑنے کے لئے ، انہوں نے ذکر کی بعض ایسی صورتیں پیش کیں جس سے عامۃ الناس کو ذکر میں دلچسپی پیدا ہو جائے اور اس کے نتیجے میں پھر عبادت میں بھی لذت آنی شروع ہو جائے مگر بعد میں آنے والوں نے ان باتوں کو بگاڑ لیا۔۔۔۔۔دعا اور ذکر میں فرق۔۔۔۔یعنی بعض لوگ جو مجسم ذکر الہی بن جاتے ہیں ان کے دل کی ہر دھڑکن ، ان کی ہر خواہش دعا بن جایا کرتی ہے اور دعا اور ذکر میں یہ فرق ہے۔اس فرق کو خاص طور پر پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ذکر ہے محبوب کی یاد اور وہ خالصہ محبت سے تعلق رکھنے والی بات ہے اور سوال سے مراد یہ ہے کہ اپنے قریبی پر جس پر اعتماد ہو، جس پر انسان کو یہ بھروسہ ہو کہ ہاں میرا قریبی ہے اس کے پاس انسان مشکل کے وقت جائے اور کہے کہ اب میری ضرورت پوری کرو اور ایک شخص ایسا بھی ہے جو محبت میں ایسا غرق ہو جاتا ہے کہ کسی چیز کو مانگنے سے عار کرتا ہے، عار رکھتا ہے یا سمجھتا ہے کہ محبت کے اعلیٰ آداب کے خلاف ہے کہ میں مانگوں۔ایسی سوچ وقتی طور پر تو درست قرار دی جاسکتی ہے اور فائدہ بھی ہوتا ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ اعلیٰ درجہ کا تعلق ہے یہ بھی درست نہیں ہے۔صوفیانہ ٹوٹکے کے طور پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو اس نے عشق میں ترقی کر لی ہے کہ اب یہ سوال کی حاجت نہیں رکھتا۔تو ایسے شخص کو اگر آپ نے ہر سوال کرنے والے سے افضل قرار دیا تو تمام انبیاء سے اس کو افضل ماننا پڑے گا کیونکہ قرآن کریم نے ہر نبی کے ذکر میں اس کی دعا لکھی ہوئی ہے۔پس سب سے زیادہ دعا کرنے والے اور خدا سے طلب کرنے والے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تھے۔اس لئے جب اس قسم کی حدیثیں زیر بحث آئیں تو ان کو ٹوٹکے نہیں بنانا چاہئے۔ان سے ایسے نتیجے نہیں اخذ کرنے چاہئیں جو قرآن اور سنت انبیاء کے خلاف ہوں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جو ذکر الہی میں ایسا ڈوب جاتا ہے کہ اس وقت اس کیفیت سے نکل کر کچھ مانگنے کو دل نہیں چاہ رہا ہوتا اور یا دوسرے معنوں میں یہ کہنا چاہئے کہ وہ شخص جو ہر وقت ذکر الہی میں ڈوبا رہتا ہے خواہ وہ سوال کرے یا نہ کرے اللہ اس کا نگران بن جاتا ہے لیکن یہ مراد نہیں ہے کہ یہ حدیث دعا کرنے کے خلاف ہے۔قرآن کریم دعا کے مضمون سے بھرا پڑا ہے۔دعا کے بغیر تو اللہ کی چوکھٹ تک رسائی ممکن نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78)