سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 381
381 ذکر کے معنی صفات باری تعالیٰ کو یاد کرنا ہے پس صفات باری تعالیٰ پر غور کرنا اور اسے یاد کرنا اور قرآن اور حدیث کے حوالے سے اس مفہوم کو سمجھنا یہ ذکر کے پہلے معنی ہوں گے یعنی حفظ کرنا اللہ کو اور اس کے طبعی نتیجے کے طور پر پھر خدا تعالیٰ زبانوں پر جاری ہونا شروع ہو جائے گا اور ایسے لوگ جن کو خدا حفظ ہو جائے۔وہ لازما اس کا ذکر کرتے ہی رہتے ہیں۔حافظ قرآن دیکھ لیں جہاں اچھے حافظ قرآن ہوتے ہیں۔بات بات پر ان کو آیتیں یاد آتی ہیں۔بات بات پر وہ بیان کرتے ہیں دیکھو فلاں آیت میں یہ لکھا ہوا ہے۔پس اس پہلو سے خدا کو حفظ کریں اور خدا کا ذکر کیا کریں۔پھر ذَكَرَ الشَّيْءَ اسْتَحْضَرَهُ یعنی کوشش کر کے ذہن میں کسی چیز کولانا یہ بھی ذکر کہلاتا ہے۔کوئی چیز آپ کو یاد آ رہی ہوتی ہے جیسے کوئی چیز آپ کے ذہن میں تھی اس وقت اچانک سامنے نہیں آتی۔تو آپ سوچتے ہیں بعض دفعہ آپ ما تھا بجاتے ہیں۔ٹھہر ٹھہر وایک بات مجھے یاد آ رہی ہے۔کوشش کر کے اس کو کھینچ کر لے آتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق کہ اگر خود بخود بھی وہ ذہن میں نہ ابھرے تو چونکہ دل اٹکا ہوا ہو اس لئے دل چاہے کہ وہ بات آپ کو یاد آئے جو اللہ سے اس تعلق کو جوڑ دے اور کوشش کر کے خدا کے ذکر میں ان باتوں کو تلاش کرنا جو موقع اور محل کے مطابق ہوں یہ بھی ذکر الہی ہے اور اس میں محنت کرنی پڑتی ہے۔بعض لوگ بھول جاتے ہیں وہ بعض دفعہ علامتیں بنا لیا کرتے ہیں یادر کھنے کے لئے اور اس لئے ذکر کے معنوں میں وہ گانٹھ بھی آتی ہے جو لوگ رو مال میں دے لیتے ہیں یا کپڑے میں دے لیتے ہیں تا کہ اس گانٹھ سے وہ بات یاد آ جائے جس کی خاطر وہ گانٹھ دی گئی تھی۔لیکن وہ بات بھی ان کو یاد آتی ہے جن کے ذہن میں گانٹھ کے ساتھ اس کا تعلق قائم رہتا ہے اور نہ بعض لوگ تو گانٹھوں پر گانٹھیں دیتے جاتے ہیں۔ایک شخص تھا اس کو کسی نے دیکھا اس کا رومال سارا گانٹھوں سے بھرا پڑا تھا۔ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک گانٹھیں ہی گانٹھیں چل رہی تھیں۔اس نے کہا تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا یہ جو گانٹھ میں نے جو دی ہے ناں پہلی اس لئے دی تھی کہ ایک میں بات بھول جاتا ہوں میری بیوی نے مجھے کچھ کہا تھا تو میں نے گانٹھ دے دی کہ مجھے یاد آ جائے تو اس نے کہا پھر وہ دوسری گانٹھ اس نے کہا مجھے گانٹھ کا یاد نہیں رہتا کہ کیوں دی تھی۔تو وہ دوسری گانٹھ میں نے اس لئے دی تھی کہ پہلی گانٹھ یاد آ جائے۔اور اسی طرح تیسری اور چوتھی اور پانچویں۔تو اگر اللہ سے تعلق نہ ہو اور خدا سے اتنی واقفیت نہ ہو کہ فورابات یاد آ جائے تو آپ جتنی مرضی گانٹھیں دے لیں تو وہ گانٹھیں ہی رہ جائیں گی۔مگر یہ ذکر کا آخری مقام ہے۔اگر اور کچھ نہیں تو کچھ گانٹھیں ہی دے لیا کریں یا درکھنے کے لئے۔کچھ فیصلے کر لئے کریں کہ فلاں بات جب ہوگی تو میں اللہ کو یاد کروں گا۔مثلاً کھانا کھانا ہے، پانی پینا ہے، اچھی مزے کی چیز حاصل کرنا ہے۔آرام کے وقت اور کوئی نعمت کا