سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 376

376 پیروی میں کوئی طمانیت نہیں ہے اگر طمانیت ہے تو ذکر اللہ میں ہے۔یہ مضمون جوں جوں آگے بڑھے گا اور کھلتا چلا جائے گا آپ کو نہ صرف سمجھ آئے گی بلکہ دل کی گہرائیوں تک یہ یقین اتر جائے گا کہ قرآن کا یہ دعویٰ سب دعوؤں سے سچا ہے کہ اس دنیا میں طمانیت سوائے ذکر الہی کے اور کسی طرح نصیب نہیں ہو سکتی۔اجتماعات پر عورتوں کے حقوق پر بھی تقاریر ہوں مجلس خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ گوئٹے مالا نے جو عورتوں کے حقوق پر اجتماع رکھا ہے۔یہ مشترکہ اجتماع ہونے کے لحاظ سے اس میں ایک خاص، ایک دلچسپی کی بات پیدا ہوگئی ہے۔یعنی عورتیں ہی صرف عورتوں کے حقوق کی بات نہ کریں بلکہ مرد بھی عورتوں کے حقوق کی بات کریں۔اس کا اگلا قدم پھر یہ ہونا چاہئے کہ مردوں کے حقوق پر بھی دونوں اجتماع اکٹھے ہوں یعنی صرف ایک طرف کی باتیں نہ ہوں ، دوسری طرف کی بھی باتیں ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے کئی مرتبہ بیان کیا ہے۔دنیا کی تاریخ میں وہ پہلا مرد جس نے عورتوں کے حقوق کی باتیں کی ہیں وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور وہ باتیں فرمائی جو آپ سے پہلے کبھی کسی نے نہیں فرمائیں اور نہ آئندہ زمانوں میں کبھی کوئی پیدا ہوسکتا ہے جو عورتوں کے حقوق کے متعلق ایسی پیاری تعلیم دے سکے۔تعلیم تو آسمان سے اتری اللہ نے نازل فرمائی لیکن جس دل پر نازل فرمائی وہ دل پہلے ہی عورتوں کے لئے ایک حسین اسلوب رکھتا تھا۔ایک حسین انداز تھا۔پس حضرت خدیجہ سے جو آپ کو حسن سلوک تھا وہ تعلیم کے بعد کب ہوا ہے، وہ تو پہلے کا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ سے وحی کے نزول سے بہت پہلے شادی کی اور وہ سارا دور جو آپ کے حسن سلوک کا ہے اس دور میں اور تعلیم کے بعد کے دور میں کوئی فرق نہیں ہے۔یہ ایک حیرت انگیز ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ دل جس پر آسمان سے نور اُترا تھا وہ مجسم نور تھا اور کوئی ایک ذرہ بھی عورت کے حقوق کی ادائیگی میں آپ نے کمی نہیں فرمائی۔ورنہ حضرت خدیجہ اس حوالے میں بعد میں بات کرتیں کہ اللہ نے یہ فرمایا اب مجھے یہ حقوق دو، وہ حقوق دو، زیادہ کرو، وہ تو ہمیشہ ممنون رہیں کہ اس سے زیادہ احسان کرنے والا خاوند دنیا میں کسی کو عطا نہیں ہوسکتا۔پس وہ وجود جس نے عورتوں کے لئے نا صرف تعلیم دی بلکہ اس کا دل مجسم عورت کے حقوق کے لئے ایک تعلیم تھا۔الہی تعلیم نے اس کے حسن کو اور ابھارا ہے لیکن کردار کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار عورت کے لئے پہلے بھی ویسا ہی نمونہ تھا۔پس اس پہلو پر غور کرتے ہوئے مردوں کو چاہئے ، جیسا کہ خدام الاحمدیہ گوئٹے مالا کو بہت اچھا خیال آیا ہے کہ عورتوں کے حقوق کی باتیں اپنی مجالس میں کیا کریں۔اپنے اجتماعات میں، اپنے جلسوں میں یہ نہ ہو کہ عورتوں کی طرف سے مطالبے ہوں کہ ہمارے حقوق غصب کئے جار ہے ہوں اور پھر آپ کو اس کے اوپر کچھ کہنا پڑے اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ مردوں کے حقوق کی باتیں اپنی مجالس میں کیا کریں اور اپنے اجتماعات