سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 367

367 دسویں نمبر پر تنزانیہ۔پس وہ پہلی دس جماعتیں جنہوں نے سال گزشتہ میں جواب ختم ہو رہا ہے، اپنے پچھلے چندے سے غیر معمولی اضافے کے ساتھ حصہ لیا تھا ان میں چارا فریقین ممالک کو خدا کے فضل سے جگہ ملی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس امتیاز کو وہ آئندہ بھی قائم رکھیں گے اور باقی افریقن ممالک جن کا ذکر نہیں ملا وہ بھی انشاء اللہ تعالی ، اللہ کے فضل کے ساتھ کم سے کم تناسب کے لحاظ سے آگے بڑھنے کی فہرستوں میں شامل ہو جائیں گے۔میں یہاں دعا کا یہ اعلان بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ افریقہ کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لئے حسب توفیق کوشش کر رہی ہے اور مختلف قسم کی ایسی سکیمیں جاری ہیں جن کے ذریعہ افریقہ کی اقتصادی حالت کو اس نقطۂ نگاہ سے بہتر بنایا جا رہا ہے کہ وہاں کا پیسہ وہاں سے نکل کر باہر نہ جائے بلکہ باہر سے پیسہ وہاں خرچ ہو اور پھر وہیں استعمال ہوا اور جو کچھ منافعے ملیں ان کو دوبارہ افریقہ کی بہبود کے لئے ہی استعمال کیا جائے۔جب میں افریقہ کے دورہ پر گیا تھا تو میں نے جماعت کی طرف سے ان سے یہ وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ میں جماعت عالمگیر کی طرف سے آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ دور جو آپ کے خون چوسنے کا دور تھا جماعت احمد یہ اس کا رخ پلٹے گی اور کم سے کم ایک عالمگیر جماعت ضرور ایسی پیدا ہو چکی ہے جو آپ کی خدمت کے لئے آگے آ رہی ہے اور جو باہر سے پیسہ افریقہ میں بھیجے گی بجائے اس کے کہ افریقہ کا پیسہ نکال کر باہر بھجوائے تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پہلے سے بڑھ کر ان کی اقتصادی حالت کو بھی بہتر بنانے کی توفیق ملے، ہزار لاکھ دوسرے ایسے ذرائع ہیں جن تک ہماری دسترس نہیں ، ہم پہنچ ہی نہیں سکتے انہیں خدا تعالیٰ اپنے فضل سے افریقہ کے لئے مسخر فرمادے اور ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ان کی اقتصادی حالت کو بہتر کر دے۔اب میں ان آیات کا ترجمہ کرتا ہوں جن کی میں نے تلاوت کی تھی کیونکہ اس میں مالی قربانیوں کا فلسفہ بیان ہوا ہے اور مالی قربانیوں سے متعلق نصیحتیں فرمائی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الشَّيْطَنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْهُ وَفَضْلاً کہ دیکھو! شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے اور فحشاء کا حکم دیتا ہے۔ان دو چیزوں کا کیا تعلق ہے پہلے اس پر غور فرمائیں۔جب حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا تو ایک طرف یہ اعلان فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی خاطر مالی قربانی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لو۔ساری دنیا میں تبلیغ کا جال پھیلانا مقصود ہے اس لئے تحریک جدید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو اور ساتھ ہی فرمایا کہ ہر قسم کی فحشاء سے بچو، دنیا کے ہر قسم کے عیش وطرب کے سامانوں سے احتراز کرنے کی کوشش کرو۔یہاں تک کہ جو تم پر جائز ہے اس میں بھی محض اس حد تک حصہ لو جتنا بہت ضروری ہو۔حلال کو حرام تو نہیں فرمایا لیکن فرمایا کہ حلال سے پورا استفادہ نہ کرو کیونکہ تمہیں خدا کی