سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 363

363 ہو لیکن جو شخص معمولی رقم سے بھی قربانی شروع کرتا ہے یہ ہمارا تجربہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ اسے مزید قربانی کی توفیق ضرور ملتی ہے اور مزید نیکیوں کے لئے اس کا حوصلہ بڑھتا ہے۔پس اس پہلو سے تحریک جدید کو جو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا کی جماعتوں کی طرف سے رپورٹیں آنی ضروری ہیں اور کچھ نہ کچھ شامل کرنے کی کوشش شروع ہو جانی چاہئے۔ہمارے مال کا جو مرکزی نظام ہے اس کا فرض ہے کہ 1 6 جماعتوں کے علاوہ ، وہ جماعتیں جن کی رپورٹیں نہیں آئیں لیکن وہاں نظام جماعت قائم ہے ان کو بار بار توجہ دلائیں اور ان سے کہیں کہ آپ کی وجہ سے ایک خفت ہوئی ہے۔وہ رپورٹ جو شامل نہیں ہوئی اس کا ذکر بھی نہیں آیا اور قربانی کے لحاظ سے جماعت کا عمومی تاثر مجروح ہوا ہے۔پس آپ کو چاہئے کہ وقت کے اوپر اپنی رپورٹیں بھجوایا کریں اور وہ ممالک جن کی جماعتیں ابھی تک شامل نہیں ہوئیں ان کو شامل کرنے کے لئے ابھی سے با قاعدہ یاد دہانی کی جدوجہد شروع کر دیں اور جو بھی نظام وہاں مقرر ہے اس کو استعمال کریں اگر وہ ممالک ابھی بعض دوسرے ممالک کے پروں کے نیچے ہیں اور ان سے تربیت حاصل کر رہے ہیں تو ان ممالک کو توجہ دلائیں کہ وہ ان نئے ممالک میں خصوصیت سے قربانی کی روح پیدا کرنے اور اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔سبقت فی الخیرات کے معنی جہاں تک آپس کی دوڑ کا تعلق ہے میں اس کا اس لئے ذکر کیا کرتا ہوں کہ استباق ف الخيرات ، قرآن کریم نے ہمارا نصب العین مقرر فرمایا ہوا ہے۔سبقت فی الخیرات کا مطلب ہے۔اچھی چیزوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا، یہ بہت اہم پہلو آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سے کبھی کسی مذہب نے اپنے متبعین کے لئے یہ نصب العین مقررنہیں کیا۔اس پہلو سے اسلام ایک حیرت انگیز استثنائی شان رکھتا ہے۔جس میں دنیا کا کوئی اور مذہب شریک نہیں۔اچھے سے اچھے مختلف نصب العین یعنی Mottos مقرر کئے جاسکتے ہیں کہ ہم تمہارے سامنے یہ مقصد رکھتے ہیں اسے حاصل کرنے کیلئے دوڑ لگاؤ اور کوشش کرو۔یہ نصب العین ! سوچیں کہ زندگی کے ہر دائرے پر حاوی ہو گیا ہے۔ہر اچھی بات میں ہر نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر و۔حیرت انگیز دوڑ ہر وقت جاری ہے، ہر گھر میں ہے، ہر وجود کے اندر اس کا احساس موجود ہے اور انسانی زندگی نیکیوں کے لحاظ سے سینکڑوں ہزاروں حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔پس کوئی بھی نیکی ہو جہاں کسی اور شخص کو آپ ایک اچھا کام کرتا دیکھیں وہاں یہ تحریک دل میں پیدا ہونی چاہئے کہ میں اس معاملہ میں اس سے آگے بڑھوں اور یہ انفرادی تحریک جب اجتماعی تحریک میں بدلتی ہے تو نیکیوں کا ایک سمندر بلکہ مو اج سمندر بن جاتا ہے یعنی اس جوش کے ساتھ لہریں اٹھتی ہیں اور اتنا حیرت انگیز ہیجان پیدا ہو جاتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر ہر ایک