سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 364
364 دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ خوبصورتی آپ کو اسلام کے سوا اور کہیں دکھائی نہیں دے گی۔جماعتوں کا نام لینے کا مقصد دوسروں میں مسابقت کی روح پیدا کرنا اور ان کے لئے دعا کی درخواست ہوتا ہے پس اس معاملہ میں بھی آپ کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جب میں اعلان کرتا ہوں کہ فلاں جماعت فلاں سے آگے نکل گئی یا اس وقت بڑی جماعتوں کا یہ حال ہے تو اس کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ باقی جماعتوں کو تحریک ہو کہ وہ ان سے آگے نکلنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ ان کے لئے دعا کی تحریک ہو اور دعا کی تحریک بھی دو پہلو رکھتی ہے۔جو سبقت لے گئے ہیں ان کے لئے یہ دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی نیکیوں کی سبقتیں قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کے لئے یہ دعا کہ اگر ان کی پوری صلاحیتیں استعمال نہیں ہو ئیں تو اللہ تعالیٰ انہیں پوری صلاحیتیں استعمال کرنے کی توفیق بخشے۔پھر وہ اگلوں سے آگے نکل جائیں تو پھر اللہ کا فضل ہے۔پس میں نے یہ دعا نہیں کہی کہ ان کے لئے یہ دعا کرو کہ پہلوں سے آگے نکل جائیں کیونکہ ان کے لئے تو پہلے آپ یہ دعا کر چکے ہیں کہ اللہ انہیں سبقتیں قائم رکھنے کی توفیق بخشے۔اس طرح تو دعا میں تضاد پیدا ہو جائے گا۔میں نے یہ دعا کہی ہے کہ باقیوں کے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پوری صلاحیتیں کماحقہ استعمال کرنے کی توفیق بخشے۔ہر ایک کے اندر Potentials ہوتے ہیں جو ا بھی استعمال نہیں ہوئے ہوتے۔پھر اللہ کی شان ہے، اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے وہ سبقت عطا فرما دے۔پھر وہ آگے نکل جائیں تو وہ بھی آپ کی دعا کا فیض پانے والی ہوں گے۔پہلے اگر اپنی سبقت کو سلامت رکھیں اور محفوظ رکھیں تو وہ بھی آپ کی دعا کا فیض پانے والے ہوں گے۔اللہ کرے کہ اس پہلو سے یہ اعلان جو میں کرنے لگا ہوں یہ جماعت میں نیکیوں کو بڑھانے اور نیکیوں کو ہر طرف فروغ دینے کا سبب بنے۔جماعتوں میں سبقت لے جانے کا ذکر گزشتہ مرتبہ جب میں نے اعلان کیا کہ عام چندوں میں جرمنی پاکستان کو پیچھے چھوڑ گیا ہے تو پاکستان کو بہت تکلیف پہنچی تھی لیکن اب میں اہلِ پاکستان کو خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان کو تحریک جدید میں حسب سابق دنیا میں سب سے آگے رہنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اور کوئی ملک ان سے یہ جھنڈا نہیں چھین سکا۔ان کے چندوں کا کل مجموعہ 2 لاکھ 91 ہزار 199 پاؤنڈ بنتا ہے۔جرمنی کی جماعت دوسرے درجہ پر کچھ عرصہ سے چلی آرہی ہے لیکن فاصلہ کم کر رہی ہے اس لئے میں پاکستان کی جماعتوں کو پھر متنبہ کر دیتا ہوں کہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہیں دی گئی۔یادرکھ لینا کہ ان کا فاصلہ بہت تھوڑا رہ گیا ہے