سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 362

362 ان کو آہستہ آہستہ ان باتوں کا عادی بنایا جاتا تھا ان کے لئے یہ نئی ہدایت ہے کہ تحریک جدید کے چندے کو بھی اب وہ اس میں شامل کر لیں اور چاہے کوئی کتنی تھوڑی رقم بھی ادا کرنا چاہے اس کو اس طرح قبول کر لیں کہ تحریک جدید کے لئے جو کم سے کم معیار ہم نے مقرر کیا ہوا ہے۔مثلاً پاکستان میں اگر وہ 24 روپے ہے پا12 روپے (مجھے یاد نہیں) لیکن جتنا بھی ہے، کم سے کم جو معیار مقرر کیا ہوا ہے اس کے متبادل اگر کوئی ایک شخص چندہ نہیں دے سکتا تو دو تین چار پانچ کو، پورے خاندان کو اس چندے میں شامل کر لیں۔سال میں ایک دفعہ دینا ہے اگر اس طرح ایک دفعہ دینے کی عادت پڑ جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے آئندہ بہت برکت پڑتی ہے۔تحریک جدید کی وجہ سے جماعت کے دوسرے چندوں میں بھی اضافہ ہوا ہے مجھے یاد ہے کہ تحریک جدید کے چندے کے آغاز کے بعد جماعت کے دوسرے چندوں پر بھی غیر معمولی اثر پڑا تھا کیونکہ اس سے پہلے کوئی ایسی تحریک نہیں تھی کہ چھوٹے بچے کم سنی میں چندوں میں شامل ہوتے۔ہر کمانے والا چندہ دیتا تھا اور بسا اوقات اس چندے سے ان کی بیویاں بھی ناواقف رہتی تھیں بچے بھی ناواقف رہتے تھے بلکہ جہاں تربیت کی کمی تھی وہاں بیویاں چونکہ خود قربانی نہیں کرتی تھیں اس لئے بعض بیویاں خاوندوں کی قربانیوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں اور اپنی اولاد کے دل میں بھی اس سلسلہ میں وسو سے پیدا کیا کرتی تھیں، نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ اس کا بعض علاقوں میں بھاری نقصان پہنچا اور اچھے مخلص قربانی کرنے والے والد کے بچے ماں کے اس اثر کے نیچے رفتہ رفتہ سرکتے ہوئے جماعت سے دور ہونے لگے کہ بیوی کی پیار کی نظر اس پیسے پر ہوتی تھی جو خاوند اس کے ہاتھ پر رکھتا تھا اور پریشانی اور گھبراہٹ کی نظر اس پیسے پر ہوتی تھی جو وہ جماعت کو پیش کرتا تھا۔چونکہ بیوی کو شامل کرنے کی کبھی کوئی کوشش ہی نہیں کی جاتی تھی اس لئے چندہ دینے سے جو لطف حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اس سے وہ بیویاں بیچاری محروم رہیں اور اس زمانہ میں یہ نقصان سب سے زیادہ ہوا ہے۔پھر بچے بھی ہاتھ سے نکل گئے لیکن تحریک جدید کے آنے کے بعد حیرت انگیز طور پر جماعت کے مالی نظام کو تقویت ملی کیونکہ خواتین اس میں شامل ہونا شروع ہوئیں اور ایک دفعہ اگر خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے تو اس سے اتنا لطف آتا ہے اور آئندہ مالی قربانی کے لئے انسان کو اس طرح طاقت ملتی ہے کہ جتنا دیتا ہے آئندہ اس سے زیادہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ایک چندہ دیتا ہے تو دوسرے چندوں میں بھی ادا ئیگی کی تمنا پیدا ہو جاتی ہے پس اس پہلو سے تحریک جدید نے ایک غیر معمولی اہم خدمت سر انجام دی ہے اور اسی لئے میں دنیا کی ساری جماعتوں میں تحریک جدید کو رائج کرنے کی ہدایت دے رہا ہوں۔نئی جماعتوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی اللہ کی راہ میں چندہ دینے کی عادت پڑے گی خواہ وہ بالکل معمولی رقم ہو۔یہ بحث نہیں ہے کہ کتنی ہے، اتنی معمولی بھی ہو کہ عام دنیا کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہ