سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 361
361 رکھتے ہیں ان کی طرف سے 10 لاکھ 87 ہزار 836 پاؤنڈ کے وعدے موصول ہوئے تھے اور وصولی اللہ کے فضل سے 10 لاکھ 91 ہزار 919 پاؤنڈ ہوئی ہے۔اس ضمن میں میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے اب ملکوں کے لحاظ سے جماعتوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اور گزشتہ سال 135 ممالک میں جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں چندوں کے لحاظ سے ابھی تربیت مکمل نہیں ہوئی۔تربیت تو کبھی کسی لحاظ سے مکمل نہیں ہوا کرتی لیکن مطلب یہ ہے کہ اتنا آغاز بھی نہیں ہوا کہ وہ ہر چندے کو پہچان لیں اور اس میں شمولیت اختیار کریں۔اس لئے نئے ممالک میں اس وقت تک میری ہدایات یہی تھیں کہ چندہ عام کی طرف ان کو لایا جائے اور شرح بھی بے شک نسبتاً ہلکی رکھی جائے۔عام طور پر وہ احمدی جو خدا کے فضل سے احمدیت میں جذب ہو جاتے ہیں اور ثبات قدم اختیار کر جاتے ہیں ان کو کم از کم 1/16 ہر مہینے دینا ہوتا ہے یا جب بھی آمد ہو اس کا 1/16 دینا ہوتا ہے لیکن جو کمزور ہیں یا مالی لحاظ سے جن پر ذمہ داریاں ہیں اگر وہ مجھے لکھیں تو میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اپنی توفیق کے مطابق جتنا بھی وہ خوشی سے دے سکتے ہیں وہ قبول کیا جائے گا۔آغاز میں نو مبائعین کو صرف چندے کی عادت ڈالیں نئے ملکوں کی جماعتوں کے متعلق یہ عمومی ہدایت ہے کہ جو لوگ ان کی تربیت پر مامور ہیں وہ شروع میں ان کو صرف چندے کی عادت ڈالیں اور شرح پر زیادہ زور نہ دیں کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب چندوں کا آغاز فرمایا تھا تو اس وقت کوئی شرح مقرر نہیں فرمائی تھی بلکہ یہ اعلان فرمایا تھا ہر شخص اپنے اخلاص اور توفیق کے مطابق جس حد تک کوشش کر سکتا ہے مالی جہاد میں شمولیت کی کوشش کرے اور اپنے اوپر کچھ فرض ضرور کر لے لیکن جب فرض کرے تو اس میں پابندی ضرور اختیار کرے۔یہی پالیسی نئی جماعتوں کے لئے تھی اور ہے یعنی جہاں ابھی پوری طرح نظام جماعت گہرے طور پر مستحکم نہیں ہوا، وہاں کی جماعتیں جن لوگوں کے سپرد ہیں وہ وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اسی نصیحت کے مطابق ان سے چندہ ضرور لیں لیکن شرح مقرر نہ کریں اور حسب توفیق جس نے جو چندہ دینا ہو خواہ وہ ایک پیسہ ہو وہ اپنے اوپر فرض کر لے اور پھر وہ ضرور ادا کرے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ساری جماعتوں کا بجٹ لازماً بن جائے گا اور ساتھ ہی تحریک جدید کے متعلق ان کو کچھ نہ کچھ سنانا شروع کر دیں کیونکہ چندہ عام کے بعد سب سے زیادہ اہم تحریک جو عمومی طور پر جماعت کے لئے جاری فرمائی گئی ہے وہ تحریک جدید کا چندہ ہے۔کیونکہ اس کا تعلق ساری دنیا میں اشاعت اسلام سے ہے اور خالصہ اس اعلیٰ مقصد کے لئے وقف ہے پس آج جو میں یہ نئی ہدایت دے رہا ہوں اسے دنیا بھر کی جماعتیں اچھی طرح سمجھ لیں۔جہاں پہلے چندے کے معاملہ میں نرم روی اختیار کرتے ہوئے آہستہ آہستہ دل موہ کر نئے احمدیوں کو چندوں سے واقفیت کرائی جاتی تھی اور