سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 355
355 جماعت کی طرف سے بیعت کرنے والوں کے لئے اس قسم کی سکیم کا آغاز کیا گیا ہو۔تمام دنیا میں مسلسل با قاعدہ منصوبے بنا کر ساری جماعتیں نو مبائعین کو اپنے اندر جذب کرنے اور ان کی تألیف قلب کے لئے پروگرام بنائیں اور ان کی تربیت کریں۔اب جبکہ یہ وقت تقریبا ختم ہو چکا ہے۔جور پورٹیں مل رہی ہیں ان سے اندازہ ہوا ہے کہ اس طرح عالمی بیعت کی تحریک ایک الہی تحریک تھی خدا کے فضل سے یہ تحریک بھی غیر معمولی طور پر برکت پاگئی ہے اور محسوس ہوا ہے کہ اس کی شدید ضرورت تھی۔اس لئے یقینا یہ اللہ تعالی کی تائید سے ہی دل میں تحریک ڈالی گئی اور از خود پیدا ہونے والا کوئی خیال نہیں ہے۔جن تجربات کی اطلاعیں ملی ہیں ان کو پڑھ کر جہاں بے حد خوشی ہوئی وہاں افسوس بھی ہوا کہ کاش پہلے ہم اس طرف توجہ کرتے تو بہت سے لاکھوں میں احمدی ہونے والی جماعتیں رفتہ رفتہ ضائع نہ ہو جاتیں۔شدّت سے محسوس ہوا کہ جو بیعت کرتے ہیں ان کی تربیت کا تو آغاز ہوتا ہے۔یہ سمجھ کر کے احمدی ہو گئے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دینا بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ ہر ملک میں مختلف قسم کی رسوم رائج ہیں، مختلف قسم کی مذہبی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، چھوٹے چھوٹے مسائل میں بھی اور بڑے بڑے مسائل میں بھی جب تک با قاعدہ مستقل رابطہ کر کے ان کی تربیت کا انتظام نہ کیا جائے، بعض غلطیاں ایسی جڑ پکڑ جاتی ہیں کہ پھر ان کا اکھیڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب میں غانا دورے پر گیا تھا تو بعض پرانی جماعتوں میں جہاں پیدائشی طور پر کثرت سے احمدی موجود تھے۔وہاں بھی ایسی پرانی بعض بدر سمیں پائی گئیں جن کے متعلق مجھے حیرت ہوئی کہ پہلے کیوں نہیں ان کو اکھیڑا گیا لیکن اس طرح وہ گہری ان کے اندر داخل ہو چکی تھیں اور احمدیت میں رہتے ہوئے ان کی جڑوں کو قائم رہنے دیا گیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ ان کے ساتھ مجھے بھی بہت سرکھپائی کرنی پڑی، بہت سمجھانا پڑا اور بڑی مشکل سے پھر آخر وہ پرانے فرسودہ خیال ان کے دلوں سے نکالے۔تو ابھی جو دورے کئے گئے ہیں ان کی طرف سے رپورٹیں مل رہی ہیں کہ ہم تو لرز گئے یہ دیکھ کر کہ اگر ہم ان کو چھوڑ دیتے تو ان جماعتوں بے چاروں کا بنا کیا تھا؟ ایمان تو لے آئے لیکن بعض بدر میں ، بعض بیوقوفوں والے خیالات ، بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو دین میں ایسی اہمیت دینا، جن کی دین میں گنجائش ہی کوئی نہیں۔وہ ابھی تک اسی طرح تھے یعنی یہ خیالات ، یہ بدر سمیں، یہ پست چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دینے کے رجحان ، یہ اسی طرح موجود تھے۔چنانچہ ان مہمات کے نتیجے میں اللہ کے فضل سے حیرت انگیز کامیابیاں ہوئی ہیں ان علاقوں کی کایا پلٹ گئی ہے۔پھر میں نے یہ تحریک کی تھی کہ آئمہ کو اور ان کے لیڈروں کو اپنے پاس بلائیں اور ان کو سکھا ئیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہی طریق تربیت کا سکھایا ہے کہ کیوں نہیں ہر علاقے سے جہاں اسلام پھیلتا ہے ایک فرقہ مرکز میں نہیں پہنچتا۔پہنچنا چاہئے ، وہاں پہنچیں۔تفقہ فی الدین حاصل کریں اور پھر واپس