سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 350

350 خدا تعالیٰ کی محبت ایک زندہ محبت کے طور پر ہمیشہ اس کے دل پر غالب کر ایک قضاء ہے جو آسمان پر قائم ہے میں نے دیکھا ہے کہ ہماری جماعت میں بھی بہت سے اختلافات، بہت سے خاندانی مسائل اس نصیحت پر عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں ہیں۔بہت سے ایسے خطوط مجھے ملتے ہیں ، بہت سے ایسے مقدمات قضاء میں جاتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ایک باپ نے آنکھیں بند کیں تو اولا د جائیدادوں پر ایک دوسرے سے لڑ پڑی۔بعض ایسے مقدمے میرے سامنے ہیں جو بیس پچیس سال سے مسلسل چل رہے ہیں اور کسی طرح کسی فیصلے سے ہر فریق کو اطمینان حاصل ہوتا ہی نہیں۔بہنیں بھائیوں سے لڑ پڑی ہیں ، بھائی بہنوں سے لڑ رہے ہیں۔آگے ان کے بچے ان اختلافات کو لے دوڑے ہیں اور مسلسل سردردی کا سامان یہاں تک کہ بالآخر مجھے جراحی کا عمل کرنا پڑا اور فیصلہ کرنا پڑا کہ اب چاہے اس کو انصاف سمجھو یا نا انصافی سمجھو قضاء کے اس آخری فیصلے پر عمل کرو تو جماعت کے ساتھ رہو گے ورنہ جماعت سے کاٹے جاؤ گے اور کئی ایسے ہیں جنہوں نے یہ تجل معکوس اختیار کر لیا کہ جماعت کو چھوڑ دیا۔اللہ سے منہ موڑ لیا، دنیا کو دین پر مقدم کر لیا لیکن وہ حرص نہ چھوڑی جو دوسرے کے مال پر نظر رکھنے کی حرص ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس کی خواہش چھوڑ دو۔یہاں یہ بھی نہیں فرمایا کہ حق ہے یا نہیں ہے یہ بحث نہیں اٹھائی۔فرمایا کہ خدا سے محبت ایسی تام ہو جائے اور خدا کی خاطر دنیا ایسی حقیر دکھائی دینے لگے کہ تم میں ایک عظیم احسان کا جذبہ پیدا ہو جائے۔اللہ کی خاطر جب دنیا سرد ہوتی ہے تو انسان بعض دفعہ اپنے حق کو دوسرے کے قبضہ میں دیکھے تب بھی وہ اس کو چھوڑ دیا کرتا ہے اور اللہ کی خاطر یہ قبول کر لیتا ہے کہ اگر یہی بات ہے تو ٹھیک ہے خدا میرا رازق ہے۔تم جتنا مجھ سے چھینو گے اس سے بہت زیادہ عطا کر دے گا۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حق کے لئے جدو جہد نہیں کرنی چاہئے مگر جہاں جدو جہد کی حد ختم اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی حد سے متصادم ہونے کا خطرہ ہو وہاں یہی حکم ہے کہ وہاں قدم روک لو اور خدا کی خاطر اپنے نقصان کو برداشت کر جاؤ۔اگر خدا غالب ہے اور میں ،اور ملکیتیں مغلوب ہیں تو ہر ایسے موقع پر جہاں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ حق چھوڑ وں یا نہ چھوڑوں خدا کا تعلق ہی فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔پھر اگر انسان اللہ کی خاطر ہرحق چھوڑنے پر اپنے آپ کو آمادہ کرلے تو یہ سچا تجبل ہے جو اس کی زندگی کے ہر عمل میں کارفرما رہے گا اور جہاں بھی ایسا مقام آئے جہاں ایک چیز سے علیحدگی ، دوسری چیز کو اختیار کرنے کے فیصلے کرنے پڑتے ہیں وہاں انسان ہمیشہ صحیح فیصلہ کرے گا۔میں نے تو دیکھا ہے کہ لوگ بہنوں کے حق مار جاتے ہیں اور ان کو وراثتوں سے محروم کر دیتے