سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 351
351 ہیں۔ابھی پرسوں مجھے ایک بچی کا بڑا دردناک خط ملا ہے۔اچھے کھاتے پیتے بھائی ہیں، ماں باپ جائیداد چھوڑ کر گئے اور اس غریب بہن کو جس بیچاری کے آٹھ دس بچے بھی ہیں۔خاوند غریب ہے ، ان کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، چھوڑا ہوا ہے اور خود عیش و عشرت کی زندگی میں مبتلا ہیں اور بہن کا حق ان کے مال میں داخل ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الدريت : 20) کہ خدا سے تعلق رکھنے والے جو نیک لوگ ہیں ان کا تو یہ حال ہے کہ جو ان کا مال ہے اس میں بھی سائل اور محروم کا حق ہوتا ہے۔اس کا ایک معنی یہ بھی ہے لیکن وہ کیسے لوگ ہیں جو سائل اور محروم کا حق چھین کر اپنے مال میں داخل کرتے ہیں وہ مومن نہیں کہلا سکتے۔پس قضاء جو فیصلے کرے جب بھی کرے اس پر عمل درآمد کی کسی کو توفیق ملے یانہ ملے لیکن ایک قضاء ہے جو آسمان پر قائم ہے اس قضاء کے فیصلوں اور اس کی تنفیذ سے کوئی دنیا میں بچ نہیں سکتا۔اس لئے میں ساری جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی کا حق ان کے مال میں شامل ہے تو اس حق کو الگ کر دیں۔وہ جہنم کا ٹکڑا ہے جو ان کے پیٹ میں جاچکا ہے جب تک وہ اس پیٹ میں ہے وہ سارے نظام کے لئے جہنم اور آگ پیدا کرنے کا موجب بنا رہے گا اور قیامت کے دن وہ پکڑ میں جائیں گے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل کی جو صحیح تعریف فرمائی ہے اس کے پیش نظر سب سے پہلی بات یہ کریں کہ اپنے اموال میں اپنی جائیدادوں میں، اپنی ملکیتیوں میں سے سب غیر کے حقوق نکال دیں اور پھر اپنے اموال پر غیروں کے حقوق خود قائم کریں اور خدا کی خاطر مال سے بے رغبتی کے نمونے دکھائیں۔یہ جو دوسرا قدم ہے یہ احسان کا قدم ہے۔اگر دنیا پر انسان کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور خدا کی محبت باقی رہ جاتی ہے تو پھر جہاں بھی کوئی محروم نظر آئے گا۔جہاں بھی سائل دکھائی دے گا، جہاں بھی کوئی تکلیف میں مبتلا شخص سامنے آئے گا انسان خدا کی خاطر اس کے لئے ضرور کچھ نہ کچھ خدمت کی کوشش کرتا ہے۔بہنوں کا حق تو ایک ایسا عظیم حق ہے کہ حضرت عمرہ کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عورت کی مثال ان کے سامنے بیان کی گئی کہ وہ اپنے بھائی کی مدح میں گیت کہتے ہوئے تھکتی نہیں۔مسلسل کہتی چلی جاتی ہے اور ہمیشہ اس کی تعریف میں رطب اللسان رہتی ہے تو حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔یہ کیا دیوانگی ہے کہ ایک شخص کے ذکر سے تم تنگ ہی نہیں آ رہی ، تھک ہی نہیں رہیں۔اس نے کہا آپ کو پتا نہیں میرا بھائی کیسا تھا۔وہ تو ایسا تھا کہ میرے ماں باپ کی وفات کے بعد آدھی جائیداد برابر بانٹ کر میرے سپرد کر دی۔ابھی اسلام کی وراثت کا نظام نہیں آیا تھا۔یہ اس وقت کی بات ہے اور میرا خاوند عیش وعشرت میں مبتلا عیاش، غیر ذمہ دار ، اس نے وہ ساری جائیداد ضائع کر دی۔میرے بھائی کو پتا چلا۔پھر اس نے اپنی جائیداد آدھی کی اور آدھی میرے سپرد کر دی۔وہ کہتی ہے سات دفعہ اس طرح ہوا ہے، سات دفعہ