سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 345
345 دنیا کی طرف سے انقطاع نہ ہو یعنی پہلی منزل اس کی یہ ہے کہ دنیا سے انسان کا ٹا جائے۔اگر کانا نہیں جاتا تو اس کا پیوند خدا تعالیٰ کی ذات میں لگ نہیں سکتا جب تک کہ صفات سیئہ سے اس کا تعلق کا نانہیں جاتا اور دنیا کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کیلئے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی۔دو محبتیں بیک وقت برابر نہیں پل سکتیں ایک محبت کو ضرور غالب ہونا ہے جب دنیا کی محبت غالب رہے گی اور جب تک دنیا کی محبت غالب رہے اللہ تعالیٰ کی محبت جڑ نہیں پکڑ سکتی۔پس آپ جب بھی محبت کے مضمون پر غور کریں گے تو مشکل یہ پیش آئے گی کہ یہاں ایک جڑ کا سوال نہیں بیسیوں ،سینکڑوں، ہزاروں جڑیں ہیں جنہوں نے ہمیں غیر اللہ کی محبت میں باندھ رکھا ہے، غیر اللہ کی محبت کی زمین میں ہم پیوست ہیں۔بعض لوگوں کی جڑیں ہلکی ہیں اور اوپر ہیں اور بعض زلازل بعض آندھیاں ان کی جڑیں اکھیڑنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔غم پڑتے ہیں، مصائب وارد ہوتے ہیں اور ان درختوں کی جڑیں جو زمین میں پیوستہ تھیں ان سے الگ ہو جاتی ہیں۔پھر اللہ فضل فرمائے تو خدا تعالیٰ کی محبت کی زمین میں وہ دوبارہ پیوست ہو سکتی ہیں لیکن بعضوں کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔جو بھی ابتلاء آتے ہیں، جیسی کیسی نصیحت کی جائے وہ اسی طرح اس زمین میں گہری پیوست رہتی ہیں تو فرمایا کہ جب تک پہلے یہاں سے جڑیں اکھیڑو گے نہیں اللہ کی محبت میں وہ جڑیں لگ نہیں سکتیں جب ایک دفعہ اکھیڑی جائیں تو پھر کیا ہوتا ہے فطرتوں میں طبعی جوش پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ ایک ایسا شخص جس کی جڑیں اکھڑ جائیں اس کی بقاء کا زمانہ بہت تھوڑا ہے وہ جتنی جلدی ممکن ہو ان جڑوں کو دوبارہ اسی زمین میں پیوست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہی پودوں کا حال ہے جو پورے ہواؤں اور آندھیوں سے اکھڑ کر اپنے اصل موطن سے الگ ہو جاتے ہیں اپنی جگہوں سے جدا ہو جاتے ہیں جہاں بھی ہوا انکو ٹھہراتی ہے وہاں وہ فوری طور پر جڑیں زمین پر پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں تو فرمایا کہ دنیا سے جڑیں اکھیڑو تو پھر ایک طبعی جوش پیدا ہوگا کہ کہیں تو جڑیں لگیں۔پھر خدا کی ذات میں محویت کا معاملہ آسان تر ہو جائے گا تم خود بخود چاہو گے کہ دنیا سے کاٹے گئے، خدا تو ملے اور کم سے کم اس مجبوری کے پیش نظر ہی تمہیں اللہ تعالیٰ میں محو ہونے میں مدد ملے گی۔اس کے بغیر ثبات میسر نہیں آسکتا۔جڑوں کے اکھڑنے کا جو مضمون میں نے اب بیان کیا ہے اس کا ثبات سے تعلق ہے۔جڑیں پیوستہ ہوں تو ثبات آتا ہے اور جب تک انسان خدا تعالیٰ کی ذات میں محو نہ ہونیکیوں پر ثبات اس لئے نہیں آسکتا کہ دنیا کی زمین میں اگر جڑیں گہری پیوست ہوں تو نیکیاں شاخوں پر صرف عارضی بہار کے سرسری اثر کے طور پر دکھائی دیتی ہیں۔جڑیں فیصلہ کرتی ہیں کہ اس درخت نے کیا بنا ہے اور کیسے رہنا ہے اور کوئی نیکی وہاں ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ جڑیں اس کی تائید نہ کریں۔پس جب تک انسان کی محبت کی جڑیں اللہ تعالیٰ کی ذات میں پیوستہ نہیں ہو جاتیں اس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تمہاری نیکیوں