سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 346

346 کو ثبات میسر نہیں آسکتا۔ہم نے روز مرہ دیکھا ہے کہ ایک انسان نیکیوں کو اختیار کرتا ہے پھرا کھڑ جاتا ہے پھر اختیار کرتا ہے پھر اکھڑ جاتا ہے۔ہر وقت اس دغدغہ میں اس کا وقت گزرتا ہے کہ کیا کروں، کس طرح اپنی نیکیوں کو ثبات بخشوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا حل پیش فرما دیا کہ اس کا حل محبت الہی میں ہے۔ہر محبت کے مقابل پر محبت الہی کا ایک موقع ہے جس جس محبت میں تم دنیا سے تعلق کاٹ کر اللہ تعالیٰ کی محبت اختیار کرو گے تو لازما و ہیں تمہاری ان نیکیوں کو ثبات مل جائے گا جن کا اس مضمون سے تعلق ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا تعالیٰ کے لئے ہو گئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا ( یہ کامل تقتل ہے ) اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ریویو آف ریلیجنز - جلد اول صفحہ : 178) ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی " تقبل کا مضمون اپنی انتہاء تک پہنچا ہوا ہے تقبل کا یہ مضمون اپنی انتہا تک پہنچا ہوا ہے اس سے آگے کا تقتل ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تعلق میں اس کی محبت میں ہر دوسرا تعلق بالکل کالعدم ہو جائے بلکہ عدم ہو جائے اور اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے۔جو شخص اپنے نفس سے کامل طور پر کاٹا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے نفس کا ذکر فرمایا ہے، کامل طور پر اپنے نفس سے کانٹا گیا مخلوق اور اسباب سے کاٹا گیا۔امر واقع یہ ہے کہ مخلوق اور اسباب سے کٹنے سے پہلے نفس سے کٹنا ضروری ہے یہ یاد رکھیں۔مخلوق اور اسباب کے تعلق کی جڑیں نفس کے اندر ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عرفان کی بہت ہی گہری بات فرمائی ہے اور بڑی حکمت سے اس ترتیب کو قائم فرمایا ہے۔فرماتے ہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نفس سے کاٹے گئے۔اپنی ذات سے کالے گئے اور اس کے نتیجہ میں لازم تھا کہ مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ آپ میں باقی نہ رہے تب ایسا ہوا کہ آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری کہ اس میں غیر کی ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی۔اس کے بعد کی جو دنیا ہے اس میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نفس سے بھی ایک تعلق پیدا ہوا۔مخلوق سے بھی ایک تعلق پیدا ہوا اور اسباب سے بھی ایک تعلق پیدا ہوا مگر کیوں؟ اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ دیکھو میرے بندے تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔پس وہ قطع تعلق ایک نئے تعلق میں تبدیل ہوگئی جو اللہ کی طرف سے ملا اور یہی مضمون خلق سے تعلق اور اسباب کے ساتھ تعلق پر بھی برابر حاوی ہے اور برابر اطلاق پاتا ہے۔گویا آپ کا ہر تعلق رضائے باری تعالیٰ کے تابع ہوکر ایک