سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 344

344 پس اس پہلو سے تُوبُوا إِلَى اللهِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا کا مضمون جو دراصل تبتل سے تعلق رکھتا ہے اس کے یہ سارے پہلو بھی ہمارے سامنے آگئے۔یعنی تبجبل ہر اس موقع پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں ایک روحانی تحریک پیدا ہورہی ہو۔اس طرح زیادہ آسانی کے ساتھ ٹکڑ اٹکڑا اتل کی توفیق مل سکتی ہے۔جب دل میں ایک نیکی کی لہر دوڑی اس حصہ پر عمل کر لیا کیونکہ وہ عمل کرنے کا سب سے زیادہ آسان موقع ہے کہ دل کی ہوائیں اور دل کے مزاج اس نیکی کو اختیار کرنے کے مطابق چل رہے ہیں، ان کے مخالف نہیں چل رہے۔اس پہلو سے تبتل کو اختیار کرنے کے طریق ہمیں سمجھا دیئے گئے کہ اگر تم زور اور کوشش کے ساتھ تنبتل اختیار کرنے کی کوشش کرو گے یعنی بعض بدیاں چھوڑ کر نیکیوں کی طرف آنے کی کوشش کرو گے تو ممکن ہے کہ تمہیں توفیق نہ ملے۔ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ایسے وقت تم پر ضرور آئیں گے جب نیکی کی طبعی تحریک دل میں پیدا ہورہی ہے اس وقت تبتل اختیار کر لینا ورنہ تَشْغَلُو اور نہ وہ بیماریاں جن سے بیچ کر خدا کی طرف آنے کی ہم تمہیں ہدایت کر رہے ہیں وہ تمہیں گھیر لیں گی ہم ان میں مشغول ہو جاؤ گے پھر تمہارا بچ نکلنا مشکل ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تبتل کے مضمون پر فرماتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ کو واحد سمجھتا ہے ( یعنی انسان جو اللہ تعالیٰ کو واحد سمجھتا ہے ) پھر دوسرے سے بھی تعلق رکھتا ہے تو تو حید کہاں رہی؟ ایک نہ رہا کچھ اور بھی اس کے ساتھ پیدا ہو گئے ) یا خدا تعالیٰ کو رازق مانتا ہے مگر کسی دوسرے پر بھی بھروسہ کرتا ہے یا دوسرے سے محبت کرتا ہے یا کسی سے امید اور خوف رکھتا ہے تو اس نے واحد کہاں مانا ؟ غرض ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے سے تو حید حقیقی متحقق ہوتی ہے مگر یہ اپنے اختیار میں نہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ہستی پر کامل یقین سے پیدا ہوتی ہے۔" پھر فرماتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه : 347-349) اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بار اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع ( یعنی تبتل۔علیحدگی ) اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 33) یہ بہت ہی گہرا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔فرمایا: اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے محویت سے مراد ہے خدا کے لئے خالص ہونا۔اس کا لفظی ترجمہ تو ہے اس میں کھوئے جانا۔خدا تعالیٰ میں کھوئے جانے کی ضرورت ہے اور یہ کیسے حاصل ہوسکتا ہے جب تک