سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 340
340 ان خاندانوں نے دوسری جگہ پر پھیل کر خدمت کے جھنڈے بلند کئے اور ابھی بھی دنیا کی اجتماعی خدمات میں سیالکوٹ کے احمدیوں کی نسلوں کی خدمات کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے اس کے بعد کیا ہوا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا بنی اور کیا بگڑی کہ انہوں نے دین کی ان خدمات میں دلچسپی کم کر دی ( میں منہ موڑنے کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا ) دنیا کے دھندوں میں زیادہ مشغول ہو گئے دین پر سیاست کو ترجیح دینے لگے۔خاندانی رقابتوں اور شراکتوں میں مبتلا ہو گئے اور دنیا کی ذلیل ذلیل نمبر داریوں میں اپنی عزتیں شمار کرنے لگے اور چوہدراہٹ کا وہ بگڑا ہوا تصور جس نے ایک لمبا عرصہ تک پنجاب پر قبضہ کئے رکھا تھا وہ ان خاندانوں کے سروں میں سما گیا اور اس کے بعد پھر وہ سارا وقار کھو بیٹھے۔سیالکوٹ کی جماعتیں صف اول میں شمار ہونے کی بجائے ب سے پیچھے جا پڑیں اور اب وہ ماضی کی یادگار میں ہی رہ گئی ہیں جیسے کھنڈرات رہ جایا کرتے ہیں۔ان میں کم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان پرانی اقدار کو زندہ رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔اب کچھ عرصہ سے یہ احساس بیدار ہو رہا ہے انصار اللہ سے میں خصوصیت سے مخاطب ہوں انصار اللہ سے میں خصوصیت سے مخاطب ہوتا ہوں کہ آپ کے اس دنیا میں تھوڑے دن رہ گئے ہیں اگر چہ خدام انصار سے پہلے بھی مر سکتے ہیں، اطفال بھی خدام سے پہلے مر جاتے ہیں لیکن بالعموم جب ہم ایک گروہ کی بات کرتے ہیں تو انصار کے اس دنیا میں رہنے کے دن خدام اور اطفال کے مقابل پر تھوڑے ہیں۔ان تھوڑے دنوں میں خدمت کی جتنی توفیق ہے وہ حاصل کرلیں۔کھوئی ہوئی روحانی اقدار کو از سرنو حاصل کرنے کی جس حد تک کوشش ہے آپ اگر یہ کوشش کریں تو آپ کے نیک اثرات آپ کی نوجوان نسل پر بھی اور چھوٹی نسلوں پر بھی پڑیں گے اور میری ہمیشہ سے یہ دعا رہی ہے اور تمنا رہی ہے اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی کہ سیالکوٹ کو اللہ تعالیٰ وہ مرتبہ اور مقام عطا فرمائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانے میں ان کو عطا ہوا تھا۔پس ان کھوئی ہوئی اقدار کو از سر نو حاصل کریں اور پھر چھٹ جائیں۔حرز جان بنا لیں اور نہ چھوڑیں جب تک کہ خدا کا بلاوانہ آجائے۔یعنی اس دنیا میں رہتے ہوئے جب تک زندہ ہیں ان اعلیٰ اور بزرگ اقدار سے چمٹے رہیں۔اسی میں ان کی زندگی ہے اسی میں ان کی دنیا ہے۔اسی میں دین ہے۔جب سے وہ وباپڑی ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔سیالکوٹ کی جماعتوں کا نہ دین رہا نہ دنیا رہی ، آپس میں پھٹ گئے ،عزتیں اور وقار مٹ گئے۔اس ضلع میں وہ لوگ جو پہلے جماعت احمدیہ پر زبانیں دراز کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جن پر جماعت کا ایک عظیم رعب طاری تھا ان لوگوں نے اٹھ اٹھ کے ان لوگوں کو بھی گالیاں دیں۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بھی زبانیں دراز کیں اور ہر طرح سے گند اچھالے تو یہ کوئی زندہ رہنے کے آثار نہیں ہیں۔زندہ رہنے کے اسلوب نہیں ہیں اگر زندہ رہنا ہے تو شان کے