سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 335

335 شروع کر دیا اور کہا کہ میں جھوٹی تھی یہ بچہ اس کا ہے اس کو دے دو۔وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ اس کے بچے کے دوٹکڑے کئے جائیں اور حضرت سلیمان" کی یہی حکمت تھی جس کی وجہ سے وہ غیر معمولی طور پر صاحب حکمت مشہور ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سمجھ گیا ہوں کہ کس کا بچہ ہے۔جو رورہی تھی کہ میرا بچہ نہیں ہے اس کو بچہ پکڑا دیا۔پس وہ جو سچی محبت کرنے والے ہیں وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ جس چیز سے محبت ہے۔اس کو نقصان پہنچے۔” میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ کا یہ مضمون ہے۔ہر فیصلے کے وقت میں یہ سوچوں گا کہ میرے دین کو نقصان ہورہا ہے یا مجھے نقصان ہورہا ہے۔اگر دین کو نقصان ہو رہا ہے تو اپناہ نقصان انسان خوشی سے قبول کر لے یہ تبتل ہے اور یہ تبتل لازماً اسے خدا کی گود تک پہنچائے گا۔یہ ناممکن ہے کہ ایسا انسان خدا کی محبت کے بغیر پھر زندہ رہ سکے یا خدا کی محبت اسے قبول نہ کرے اور خدا کی محبت کی حالت میں جان نہ دے۔پس یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما ر ہے ہیں کہ ” جو شخص در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کاکلام کتنا گہرا اور کتا محتاط اور کتا فصیح و بلیغ ہے۔اس موقع پر در حقیقت کا لفظ عمد أسوچ کر داخل کیا گیا ہے محاورۃ نہیں فرمایا میری بیعت کرتے وقت سب کہتے ہیں کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا لیکن در حقیقت کتنے ہیں جو ر کھتے ہیں یار رکھنے کی تمنا رکھتے ہیں۔پس فرمایا جو شخص در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے ( یعنی جوئے سے ) بدنظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“۔نیتوں کو پاک صاف کرو اب یہ تو تحریر اکثر دلوں پر بہت بوجھل ہے کیونکہ ہر بدی اگر اپنی انتہا میں نہیں تو کسی نہ کسی صورت میں ، کسی نہ کسی شکل میں انسان کے اعمال میں نہیں تو اس کے دل میں پنپ رہی ہوتی ہے، اس کی نیتوں میں داخل ہوتی ہے، تمنا بن چکی ہوتی ہے اور اگر کوئی چیز انسان کے اور اس کی بدی کی راہ میں حائل ہے تو خواہش کی کمی نہیں ، بے اختیاری حائل ہوتی ہے۔بہت سے معصوم ایسے ہیں جو مجبور ہیں، بے اختیار ہیں ، ان کی بدی تک پہنچ نہیں ہوتی۔پہنچ ہو اور پھر نہ کریں تو یہ نیکی ہے اور اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اگر تمہاری نیتوں میں داخل رہیں تو تم کبھی تبجبل اختیار نہیں کر سکتے۔نیتوں کو پاک صاف کرو، نیتوں کی گہرائیوں سے جڑوں کو اکھیڑ کر پھینک دو۔پھر دعا کروتو پھر دیکھو