سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 330
330 کتنے ہیں جو آسانی سے جھوٹ چھوڑ سکتے ہیں؟ یہ سوال ہے جو میں نے پہلے اٹھایا تھا اس کی مثال دے رہا ہوں بکثرت لوگ جھوٹ کی کسی نہ کسی عادت میں مبتلا ہیں، کوئی بڑا جھوٹ بولتا ہے کوئی چھوٹا جھوٹ بولتا ہے، کوئی روز مرہ جھوٹ بولتا ہے، کوئی اس وقت جھوٹ بولتا ہے جب بچنے کا کوئی اور ذریعہ دکھائی نہ دے اور جھوٹ کے سوا کوئی اور سہارا دکھائی نہ دے، کوئی معمولی ابتلاؤں میں جھوٹ بولتا ہے، کوئی انتظار کرتا ہے اور جب کوئی بہت بڑا ابتلا آ جائے تو وہاں جھوٹ بولتا ہے۔یہ سارے پھسلنے کے مقامات ہیں اور ہر حالت میں جھوٹ سے پر ہیز یہ تبتل ہے اس کی تمنا پیدا ہو جائے اور پھر انسان یہ فیصلہ کر کے دعا کرے کہ میں نے جھوٹ نہیں بولنا اور اس کے نتیجہ میں ہر قسم کے بدنتائج قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہوں۔یہ یوسفی دعا بنے گی اس کے سوا اس دعا کی کوئی اہمیت نہیں۔پس جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو جی ! بڑی دعا کرتے ہیں لیکن بدیاں چھٹ نہیں رہیں۔جھوٹ کی عادت ہے مصیبت ہے بار بار چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پھر مبتلا ہو جاتے ہیں وہ اپنے نفس پر غور کریں ان کو وہاں جواب ملے گا کہ وہ اس سے بچنا نہیں چاہتے وہ ادنیٰ حالتوں سے بچنے کی خواہش رکھتے بھی ہوں تب بھی جب وہ بڑے مقامات پر غور کر کے دیکھیں گے تو اگر وہ بچے ہیں تو ان کا دل ان کو بتا دے گا کہ تم فلاں جگہ جا کر جھوٹ سے پر ہیز کی طاقت نہیں رکھتے۔اس وقت انسان اپنے ضمیر کو جھنجھوڑے اور فیصلہ کرے کہ میں جو دعا کے لئے ہاتھ پھیلا رہا ہوں اور میرا دل مجھے کسی اور طرف لے کر جارہا ہے یہ کونسی دعا ہے۔اس میں کوئی سچائی نہیں وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (فاطر: 11 ) وہ عمل صالح جو دعا کوقوت بخشا ہے اور کلام کو اونچا کرتا ہے وہ پہلا عمل یہ نیت کا عمل ہے۔اپنے اندرونے کو قطعی طور پر اپنے سامنے رکھ کر انصاف اور تقویٰ سے فیصلہ کریں کہ آپ اس بدی کو چھوڑنا چاہتے ہیں کہ نہیں چاہتے اور پھر دعا کریں پھر دیکھیں وہ دعا کس طرح قبول ہوتی ہے۔کوئی تیر ایسا نشانے پر نہیں لگ سکتا جس طرح اس شخص کی د عالگتی ہے جو اپنے نفس کو صاف اور ستھرا کر کے کلیۂ خدا کے لئے ہو کہ اللہ ہوکر قبلہ رخ ہو جائے اور اپنا رخ خدا کی طرف پھیر دے اور پھر یہ کہے کہ اے خدا! میں تیرا ہو چکا ہوں مگر میں مجبور ہوں میں خوفزدہ ہوں کہ کہیں غیر مجھے اچک نہ لے غیر مجھے اپنا نہ لے، یہ دعا جب آپ کریں گے تو ہو نہیں سکتا کہ وہ نا مقبول ہو کبھی ایسی دعانا مقبول نہیں ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔"۔۔۔۔۔اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔۔۔۔" کتنے ہیں جو فریب دہی سے کلیۂ پاک ہیں ہر حالت میں، ہر مشکل کے وقت انسان کا دماغ فریب کی طرف ضرور جاتا ہے۔ایک ٹیکس کی چوری ہے ایک تجارت کے معاملہ میں نفع کی تمنا ہے۔ایک مکان بیچنے کی خواہش ہے ایک لڑکی جو بیمار ہے اس کی شادی کرنے کی تمنا ہے۔ہرایسی حالت میں جس میں انسان کی