سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 329

329 اور خوف بھی بے انتہا ہو ، خوف کے سارے موجبات دوسری طرف موجود ہوں اور انسان کا دل بیچ سے پہلے یہ فیصلہ کرے کہ نہ میں خوف سے ڈروں گا نہ میں اپنے ذاتی تعلق کی حرص میں غلط فیصلہ کروں گا میں جس کا ہوں اسی کا ہو چکا ہوں۔اسی سے مدد مانگتا ہوں اسی کی طرف جھکتا ہوں اور اسی سے چاہتا ہوں کہ وہ مجھے اس صورت حال سے بچالے۔پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شان کے ساتھ اس دعا کو قبول فرمایا اور ہر بدی سے بہتری کی ایک صورت پیدا فرما دی اور ترقیات کا عظیم سلسلہ شروع کیا ہے۔پس اس پہلو پر غور کر کے اپنی بدیوں پر نظر ڈال کر یہ فیصلہ کریں کہ آپ کس حد تک ان سے علیحدہ ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔جب کشتی نوح کا مطالعہ کرتا ہوں تو بعض دفعہ عبارتوں سے خوف آتا ہے، بعض دفعہ دل لرزتا ہے کہ ہیں ! یہ بھی ہے اور یہ بھی ہے اور یہ بھی وہ ایسا مقام ہے جس سے کلیۂ علیحدگی کا حکم ہے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ بھی میری جماعت میں سے نہیں ہے، وہ بھی میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اس تعلیم کو آپ پڑھیں اور پڑھنے کے بعد ہر فقرے پر ٹھہر میں اور غور کریں کہ آپ کو اس سے ڈرتو نہیں لگ رہا اور آپ کو یہ دو بھر اور بوجھل تو نہیں معلوم ہور ہا اگر ہے تو وہیں خوف کا مقام موجود ہے۔جولوگ تبتل کر چکے ہیں اور ہر پہلو سے تجل کر چکے ہیں ان کے لئے یہ تحریر آسان ہو چکی ہے وہ پڑھتے ہوئے بے خوف گزر سکتے ہیں اور ان کے دل میں کوئی خدشہ نہیں ہوگا کہ اوہو! میں تو یہاں بھی مارا جارہا ہوں، یہاں بھی مارا جا رہا ہوں اور یہاں بھی مارا جارہا ہوں۔میں اس تحریر کے چند نمونے محض اندازہ لگانے کی خاطر آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ آپ کو اندازہ لگانے میں آسانی ہو کہ تل ہے کیا اور کس حد تک آپ ان پہلوؤں میں تبتل اختیار کر چکے ہیں فرمایا۔کشتی نوح میں ہماری تعلیم یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے۔ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ۔خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے۔اس سے بچو۔۔" پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآنی محاورہ ہی اختیار فرمایا ہے بچنے کو موت نہیں کہا بلکہ زندگی کہا ہے۔دوسرے معنوں میں وہ بھی کہا جا سکتا ہے یہ غلط نہیں مگر میں بتارہا ہوں کہ یہاں بعینہ زندگی کی طرف بلانے کے لئے نافرمانی کوموت قرار دیا ہے۔دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے"