سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 21

21 تھیں میں نے ان سے کہا کہ پین کی Inquisition کی تاریخ آپ کے سامنے ہے۔الزامات کے نتیجے میں عیسائی نے عیسائی پر ایسے ایسے درد ناک مظالم کئے ہیں کہ اس تاریخ کے مطالعہ سے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آدمی پڑھتے پڑھتے پاگل ہونے والا ہو جاتا ہے کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان پر اتنے مظالم کر سکتا ہے؟ پھر جرمنی کی تاریخ آپ کے سامنے پڑی ہے تمام عیسائی مورخین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جرمنی کو تبلیغ کے ذریعے عیسائی بنانے کے لئے چرچ کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں اور اس قوم نے کلینڈ عیسائیت کو رد کر دیا۔تب ہم نے تلوار پکڑی اور تلوار کی کاٹ پریز بر دستی ان کو عیسائی بنایا ہے۔ایک جرمن بھی از خود عیسائی نہیں ہوا۔پس ساری جرمن قوم گواہ ہے کہ آپ نے تلوار کے زور سے ان کو زبردستی عیسائی بنایا ہے۔آپ ایک مینی پیش کر رہے ہیں۔آپ کے گریبان میں تو ہزاروں خمینی شور مچار ہے ہیں۔آپ اس گریبان کی آواز کو کیوں نہیں سنتے آپ کو صرف اسلام کا ایک مینی نظر آ رہا ہے۔اور اس مینی کی آواز پر آپ اسلام کو متہم کر رہے ہیں اس لئے آپ کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں۔جب تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا تھا۔تو ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں اور بلا استثنا ایک جگہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پریس کا نفرنس میں یا مجلس میں جہاں بڑے بڑے رؤسا اور صاحب فکر مدعو ہوا کرتے تھے۔یہ سوال کرنے والوں نے پھر کوئی ایسا لفظ بولا ہو۔جب میں دیکھتا تھا کہ ان کے سر جھک گئے ہیں اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں تو پھر میں اُن کو اصل مقصد کی طرف لاتا تھا۔کیونکہ میرا مقصد یہ تو نہیں تھا کہ اسلام کی طرف سے محض ایک فتح کا اعلان کیا جائے۔ہمارا مقصد تو دل جیتنا ہے صرف احساس شکست دلا دینا اور تذلیل کرنا نہیں لیکن بعض دفعہ دل جیتنے سے پہلے تکبر توڑ لئے جاتے ہیں۔اور احساس شکست پیدا کرنا پڑھتا ہے جو فی ذاتہ مقصد نہیں ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کسی طرح وہ اس قابل ہو جائیں کہ ان کے دل تیار ہوں اور ہم اسلام کے لئے ان کو جیتیں جب یہ قدم اٹھ جاتا تھا اور ان کے دلوں کی زمین تیار ہو جاتی تھی تب میں ان سے ایک اور بات کہتا تھا۔اسلام ہمیں انصاف کی تعلیم دیتا ہے میں ان سے کہتا تھا کہ آپ دیکھیں اسلامی اخلاق اور آپ کے اخلاق میں کتنا بڑا فرق ہے۔آپ کے پاس ایک ثمینی آیا اور آپ نے شور مچاتے مچاتے گلے پھاڑ لئے اور اس ایک مینی کا انتقام آپ اسلام سے لے رہے ہیں ہمارے پاس آپ کے ہزار ہاضمینی ہیں لیکن ہم نے عیسائیت کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔کیوں نہیں نکالا؟ اس لئے کہ اسلام ہمیں انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جب وہ مظالم عیسائیت کے نام پر ہورہے تھے تو عیسائیت کا ایک ذرہ بھی قصور نہیں تھا ان جاہلوں کا قصور تھا۔ان تاریکی کے بچوں کا قصور تھا جنہوں نے خدا کے ایک پاک مذہب۔محبت کے مذہب کو اس قدر ذلیل اور رسوا کیا کہ اس