سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 316
316 کارخانہ ہے اور ہر انسان میں مختلف صلاحیتوں کو بیدار کرنا ہوگا اور اُن کے اوپر کا ٹھی ڈالنی ہوگی اُن صلاحیتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے لئے مسخر کرنا ہوگا۔اتنا بڑا کام سیکرٹری دعوت الی اللہ کا ہے لیکن جب اُس سے پوچھا جاتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ اُس کو یہ بھی نہیں پتا کہ اب تک جماعت احمد یہ اس ضمن میں کیا لٹریچر شائع کر چکی ہے اور کیا کیا چیزیں اُس کے کام کی موجود ہیں جن سے وہ فائدہ نہیں اٹھا رہا۔کام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ اس سے بھی اُس کو پوری واقفیت نہیں ہوتی اور یہ جائزہ ہی نہیں لیتا کہ ہر مجلس، ہر جماعت میں معین طور پر کون کون ہے جو دعوت الی اللہ کر رہا ہے اور کن کن کو پیغام پہنچا رہا ہے۔اُس میں اپنی صلاحیتیں کیا ہیں؟ اُس کے پاس مناسب لٹریچر بھی ہے کہ نہیں؟ اور اگر نہیں ہے تو کس نے اُس کو مہیا کرنا ہے یہ سارے سوالات ایسے ہیں جن کا کوئی جواب لوگوں کو پتا نہیں ہوتا اور عہدے سنبھالے ہوئے ہیں اپنی شان کی خاطر نہیں ، خدمت کی خاطر۔اُن کی نیتوں پر حملہ نہیں کرتا۔اکثر وہ ہیں جو اخلاص کے ساتھ ذمہ داری سے یہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن یہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت اُن میں اس لئے موجود نہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو بیدار نہیں کر سکے، صلاحیتیں تو ہیں لیکن صلاحیتوں کو پہچان نہیں سکے۔ان صلاحیتوں کو خود اپنی ذات میں مسخر نہیں کر سکے۔پس وہ ساری صلاحیتیں جو خوابیدہ صورت میں آپ کے اندر پائی جاتی ہیں اُن کو بیدار کرنا ہو تو دعا اور حکمت کے ساتھ ، محنت کے ساتھ ایک ایک صلاحیت کو بیدار کرنا ہوگا اور وہ ٹیم مؤثر طور پر بنانی ہوگی جو دن بدن پھیلتی چلی جائے۔اس وقت جو آثار مجھے دکھائی رہے ہیں، معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت جلد جلد اب عظیم انقلابات جماعت کے حق میں رونما ہونے والے ہیں، بہت جلد جلد بہت بڑی بڑی تبدیلیاں پیدا ہونے والی ہیں ، تو میں فوج در فوج انشاء اللہ نظام جماعت احمدیہ میں اور اس نظام کے رستے سے اسلام میں داخل ہوں گی اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں سر رکھنے کے لئے والہانہ طور پر آگے بڑھیں گی کیونکہ ساری برکتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے ہیں۔یہ وہ قدم ہیں جس سر پر پڑیں اُس سر کے لئے سب سے بڑی سعادت ہو سکتے ہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں تو اس میں ادنیٰ بھی مبالغہ نہیں ہے۔تمام مجالس، جماعت ہیں اور انہوں نے سلطان نصیر بن کر میری مدد کرنی ہے پس میں ایسے حالات دیکھ رہا ہوں ، ایسی تبدیلیاں دنیا میں دیکھ رہا ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت تیزی کے ساتھ اب قو میں جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والی ہیں اور جب میں دیکھتا ہوں تو اُس کے مقابل پر جو ہم نے تیاریاں کی ہیں اُن پر نظر پڑتی ہے تو میں لرز اٹھتا ہوں مجھے اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے، اُس ذمہ داری کے تصور سے میں کانپ اٹھتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے میرے عاجز کندھوں پر ڈالی ہے، میں اُس