سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 302
302 عالم کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنے کے لئے وہ صلاحیتیں عطا فرمائی گئیں اور آسمان سے وہ قوت بخشی گئی۔جس کے نتیجے میں یہ عظیم الشان کام حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ عاجز غلام اور دیوا نے سرانجام دیں گے۔یہ وہ جماعت ہے جسے ہر جمعہ تمام عالم کے احمدیوں کو ایک خطبے کے نیچے جمع کرنے کے سامان کئے گئے اور اسی طرح اور بھی بہت سی جمیعتیں اس جمعہ میں شامل کر دی گئی ہیں۔ایک وقت میں مختلف ممالک میں جو اجتماع ہورہے ہیں یہ تو ناممکن تھا کہ میں اُن سب میں شرکت کر سکتا لیکن اب اس انتظام کے ذریعے جو خدا تعالیٰ نے مواصلاتی سیاروں کے ذریعے ہمیں عطا فرمایا ہے بیک وقت سب دنیا اس پروگرام میں شامل ہے اور بیک وقت ہم دوسروں کے پروگراموں میں بھی شامل ہو رہے ہیں۔ایم ٹی اے کے ذریعہ خلافت سے براہ راست دنیا کے احمدیوں کا رابطہ قائم ہو گیا ہے یہ جو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا کی ہے۔اس کے متعلق مجھے پہلے تصور نہیں تھا کہ اس کے اتنے عظیم الشان فوائد ظاہر ہوں گے۔پہلا تو خیال صرف پاکستان کے مظلوموں ، محروموں اور مجبوروں کی طرف جاتا تھا اور یہی خیال تھا کہ اُن سے رابطوں کے انتظامات ہو جائیں گے اور اُن کی پیاس بجھنے کے خدا تعالیٰ ایسے سامان فرمائے گا وہ جو دیر سے محرومی میں زندگی بسر کر رہے تھے۔کچھ تشنگی مٹے گی ، کچھ پیاس بجھے گی لیکن بعد میں جب عالمی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوئے اور مختلف خطوط کے ذریعے یا عملاً باہر سے آنے والے دوستوں کی زبانی سن کر جو حالات معلوم ہوئے ہیں۔اُس سے پتا چلتا ہے کہ محض پاکستان کا سوال نہیں تمام دنیا کے لئے آج یہ ایک اشد ضرورت تھی کہ خلافت سے براہ راست تمام دنیا کی جماعتوں کا رابطہ قائم ہو اور یہ رابطہ جمعہ اور خطبوں کے بغیر اور کسی طریق پر ممکن نہیں تھا۔اب جرمنی میں جب سے آیا ہوں مختلف احباب سے اور خاندانوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ جرمنی کے احباب جماعت اور خواتین اور بچوں نے سیٹلائٹ کے ذریعے رابطے کے متعلق ایسے تاثرات بیان کئے ہیں جن کے متعلق میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جرمنی کو بھی اتنی ضرورت در پیش ہو سکتی تھی۔یہاں میں بار بار آتا رہا اور میرا یہی خیال تھا کہ میرا آپ سب سے مسلسل اور بار بار ہونے والا رابطہ قائم ہے لیکن جو خاندان ملنے کے لئے آئے انہوں نے بتایا کہ سال میں ایک دفعہ یا دو دفعہ رابطے سے وہ بات پیدا نہیں ہو سکتی تھی اور پھر تمام جماعت کو تو فیق بھی نہیں ملا کرتی تھی وہ ہر ایسے موقع پر حاضر ہو۔یہ بھی توفیق نہیں ملتی تھی کہ انہماک سے آپ کی باتوں کو سنیں اور اُس کے اثر کو پورا سال قائم رکھیں۔بہت سے ایسے افراد نے مجھے بتایا جن میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی کہ ہم نے تو اب نمازیں شروع کی ہیں اس سے پہلے جو نماز سے تعلق تھاوہ ایک سرسری سا تعلق تھا لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تعلق مضبوط ہوتا چلا جارہا