سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 18

18 ہر جہت سے ہمارا یہ سال بھی گذشتہ سال سے آگے نکل گیا ہے۔چنانچہ بیرون ربوہ پاکستان سے 942 مجالس ربوہ ایک اور بیرون پاکستان سے 9 مجالس یہ کل 952 مجالس شریک ہوئی ہیں۔جبکہ گذشتہ سال 842 مجالس شریک ہوئی تھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے نمایاں ترقی ہے۔اس دفعہ باہر سے آنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جہاں تک تعدا داراکین کا تعلق ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی نمایاں اضافہ ہے اس سال 700 اراکین زیادہ تشریف لائے ہیں جہاں تک زائرین کا تعلق ہے اس میں خدا کے فضل سے 1138 کا اضافہ ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں ایک عمومی بیداری کا رجحان ہے اور عمومی ولولہ اور جماعتی کاموں میں دلچسپی بڑھ رہی ہے کیونکہ جہاں تک انصار کا تعلق ہے لازماً مجلس مرکزیہ کی کوششوں کا اس میں دخل ہوگا اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول فرمایا اور پہلے سے بہتر حاضری ہوئی لیکن جہاں تک زائرین کا تعلق ہے یہ جماعت کے عمومی رجحان کا پتہ دیتا ہے پچھلے سال زائرین کی تعداد 3147 تھی اس کے مقابل پر امسال یہ تعداد 4275 ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا بہت ہی احسان ہے اور ہم امید رکھتے ہیں اس کے فضلوں سے کہ وہ ہمیشہ ہمیں انشاء اللہ پہلے سے آگے بڑھاتا رہے گا۔امسال انصار سائیکل سوار زیادہ تعداد میں آئے ہیں جہاں تک سائیکل سواروں کا تعلق ہے۔اس میں ہمیں بہت ہی نمایاں کامیابی نصیب ہوئی ہے انصار سائیکل سوار اتنی تعداد میں اور اس کثرت سے پہلے کبھی نہیں آئے تھے ایک دفعہ 1973 ء میں 35 انصار سائیکل سوار آئے تھے اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا کیونکہ یہی سمجھا جانے لگا کہ خدام کا کام ہے کہ وہ سائیکلوں پر آئیں انصار نہیں آسکتے۔پچھلے سال یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا۔گزشتہ سال 82 انصار سائیکلوں پر تشریف لائے تھے اس کے مقابل پر امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے 197 تشریف لائے ہیں ایک سائیکل سوار ممبر انصار اللہ جنہوں نے انعام لیا ہے ان کی عمر ما شاء اللہ اسی سال ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ انعام لینے کے لئے وہ کس طرح دو سیڑھیاں چڑھے تھے۔ان کی ہمت کا اندازہ کریں کہ وہ ماشاء اللہ سارا رستہ (117) چک چور ضلع شیخو پورہ تار بوہ ناقل ) سائیکل پر طے کر کے آئے۔صرف ربوہ کی چڑہائی پہ آ کر رہ گئے تھے دریائے چناب کے جو دو پل ہیں وہاں ان کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ اب میں سائیکل پر تو جانہیں سکتا پیدل جاؤں یا کسی اور ذریعہ سے پہنچوں۔پھر ان کے ساتھیوں نے مدد کی انہوں نے کہا آپ سائیکل پر بیٹھے رہیں ہم آپ کو دھکا دے کے لے جاتے ہیں۔چنانچہ ان کو دھکا دیا گیا لیکن سائیکل پر سے نہیں اتر نے دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی ہمت ہے کیونکہ جو چڑھائی نہیں چڑھ سکتا اس کے لئے پیدل چڑھنا بھی مشکل تھا اس لئے اس کے سوا اور کوئی رستہ نہیں تھا کہ وہ سائیکل پر بیٹھے رہیں اور دھک دے کر ان کو آگے کیا جائے۔