سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 295
295 یہاں ضمناً میں آپ کو یہ بات بھی بتادوں کہ جہاں تک میں نے قرآن کریم کا یا سنت کا مطالعہ کیا ہے حق کے لحاظ سے خدا کی نظر میں اور اسلام کی نظر میں ہر بچہ برابر ہے اور معاشرہ اس کو اس کے بنیادی انسانی حق سے اس لئے محروم نہیں کر سکتا کہ وہ نا جائز اولاد ہے۔ناجائز کا تعلق ماں باپ سے ہے، ناجائز کا تعلق اس معاشرے اور سوسائٹی سے ہے جس نے وہ نا جائز کام سامنے ہونے دیا ہے لیکن جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ بے قصور ہے کیونکہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور فطرت سے مراد اللہ کی فطرت ہے۔قرآن کریم میں کہیں آپ کو یہ فرق دکھائی نہیں دے گا کہ فلاں قسم کا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور فلاں قسم کا بچہ فطرت پر نہیں پیدا ہوتا۔اس لئے اس بنیادی بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔میں اس لئے سمجھا رہا ہوں کہ بعض دفعہ بعض احمدی میاں بیوی جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے فلاں جگہ سے بچہ مانگا ہے۔اگر وہ بچہ وہ نکلا جس کی ولدیت ہی جائز نہیں تو پھر ہم کیا کریں گے۔ہمارے لئے یہ درست ہے کہ نہیں ، تو میں ایسے میاں بیوی ہوں یا دوسرے لوگ ہوں، ان سب کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ قرآن نے ہر بچے کو ایک برابر آزادی دی ہے اور انسانی قدروں میں برابر حقدار قرار دیا ہے اور ہر بچے کی عزت نفس قائم فرمائی ہے جو اس کے عزت نفس پر حملہ کرتا ہے وہ جہالت سے کرتا ہے اور وہ خدا کے مقابل پر کھڑا ہوتا ہے اس لئے ہر بچہ معصوم ہے اس بات کو پلے باندھ لیں ہرگز ایسی سوچیں نہ سوچیں یا ایسا رویہ اختیار نہ کریں جس سے خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ظاہر ہونے والے بچے ، خواہ وہ اس کے قانون کے مطابق ہوں یا قانون کے خلاف ہوں مختلف طرح کے سلوک کے محتاج سمجھے جائیں۔انسان قدروں میں سب برابر کے شریک ہیں پھر وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (فاطر :19) کا قانون ہے کہ ایک بوجھ اٹھانے والے کا بوجھ دوسری جان پر نہیں ڈالا جائے گا۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: 287) خدا کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، تو وہ بچہ جو معصوم پیدا ہوا ہے اس بے چارے پر ماں باپ کا بوجھ کیوں ڈالا جائے۔جس نے گناہ کیا ہے وہی کمائے گا اور جو بے توفیق ہے جس کو یہ بھی اختیار نہیں ہے کہ میں دنیا میں آؤں یا نہ آؤں۔اس معاملہ میں اس کا کوئی دخل ہی نہیں ہے اس کو خدا کیسے پکڑ سکتا لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کے اعلان کے بعد اس کی پکڑ اور اس کا مواخذہ ہو ہی نہیں سکتا لیکن معاشرے پر یہ ذمہ داری ہے کہ آئندہ ان کو واقعہ با خدا بنانے کی کوشش کریں۔اگر ان کے ساتھ اچھا سلوک ہو ان سے رحمت کا سلوک ہو ان کی تربیت کی طرف توجہ ہو تو یہ لوگ باخدا بن سکتے ہیں۔ہمیں دو طرح کی جدوجہد کرنی ہوگی۔ہے۔