سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 294
294 امریکہ ایک وہ ملک ہے جہاں بدنصیبی سے اس حق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی ہو رہی ہے ایک موقع پر میں نے اعداد و شمار پڑھے تو میں حیران رہ گیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ واقعۂ طبیعت لرز اٹھی کہ ان اعداد وشمار کی رو سے امریکہ میں ہر سال پیدا ہونے والے بچوں میں 33 فیصد نا جائز بچے ہیں یعنی کسی قانون کی رو سے بھی ان کو پیدا ہونے کا حق نہیں ملتا خواہ وہ ریڈ انڈین کا قانون ہو یا عیسائیت کا ہو کوئی بھی ہو۔دنیا کا قانون ہو تو ان کو گو یا کسی مذہب نے ، کسی رواج نے کسی قانون نے دنیا میں آنے کا کوئی حق نہیں دیا اور یہ بد رسم اب امریکہ میں ایک وبا کی صورت میں چل پڑی ہے اور اس کو کوئی جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔سوال یہ ہے کہ اگر جرم نہ سمجھا جائے تو کیا یہ بچے جائز ہوں گے۔جہاں تک رسم ورواج کا تعلق ہے خدا نے آزادی دی ہے۔ان کی رو سے خواہ وہ کیسے ہی رسم و رواج ہوں جب بھی شادی ہوگی وہ جائز اولاد ہوگی لیکن اگر کسی رسم ورواج کی پیروی نہیں کی جارہی، کھلی آزادی ہے یعنی لڑکا اور لڑکی آپس میں ایک ایسا تعلق قائم کرتے ہیں جس کو معاشرے نے تسلیم نہیں کیا تو اس کے نتیجہ میں جو اولاد ہے اس کو ہم ناجائز اولاد کہتے ہیں۔اگر ہر سال کسی ملک کا تیسرا حصہ بچے ناجائز اولاد بن رہے ہوں تو تین سال چار پانچ سال دس سال کے اندراندازہ یہ لگایا جاسکتا ہے کہ ساری قوم کا خون ایک دفعہ گندا ہو چکا ہے اور یہ کئی بار ہو چکا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے ایک پہلو تو یہ ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔عفت اور عصمت کی طرف آپ کو امریکہ میں خصوصیت کے ساتھ واپس آنا ہوگا اور اس کے لئے بہت وسیع جد وجہد کرنی ہوگی۔ایسی جدوجہد جو جماعتی حدود کے اندر محدود نہ رہے بلکہ اچھل کر باہر سوسائٹی میں نکلے انصار اللہ کے لئے ایک بہت اچھا موقع ہے کیونکہ خدام اس قسم کی جدو جہد اگر شروع کریں تو ان کے اپنے لئے خطرات لاحق ہیں۔کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں۔جہاں عورتوں کو بھی سمجھانا پڑتا ہے ماں باپ کے پاس جانا پڑتا ہے ایک مہم چلانی ہے جس میں تعلقات اس نوعیت کے ہیں کہ بڑی عمر کے لوگ زیادہ بہتر رنگ میں اس مہم کو چلا سکتے ہیں اس لئے انصار اللہ کو میرا دوسرا پیغام یہ ہے کہ یہ بات جس کی نشان دہی میں نے کی ہے اس سوراخ سے ساری اعلیٰ قدروں کو خطرہ ہے کیونکہ یہ دراصل اس بات کا پیغام ہے کہ آپ کی اگلی نسل کو کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں رہی اور ان کی زندگی خالصہ لذت طلبی کے لئے وقف ہو گئی ہے اور اتنا زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو کسی بات کا خوف نہیں رہا ، کوئی ذمہ داری نہیں رہی، کوئی جواب دہی نہیں ہے جو چاہیں کریں اور معاشرہ اس کو قبول کر لے گا۔ایسی صورت میں آئندہ کی ساری نسلوں کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ Single parents ایک والد یا والدہ بچوں کی دیکھ بھال کرے اور نا جائز اولاد کی صورت میں محض والدہ کے سپر د ہو جاتا ہے اور اس نے ہی اس کی دیکھ بھال کرنی ہے اور جیسی حالت میں وہ پیدا ہوا ہے وہ ماں اس کو اخلاقی تعلیم دے بھی نہیں سکتی۔وہ اس عصمت کی طرف بلا ہی نہیں سکتی اور ایسے بچے شروع ہی سے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیں۔