سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 291
291 سے میں سمجھتا ہوں کہ آج کے خطبہ کو زیادہ تر اسی دائرہ میں محدود رکھنا چاہئے کہ مغربی دنیا میں اس احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو جو مختلف قسم کے چیلنج مل رہے ہیں، مختلف قسم کے خطرات درپیش ہیں ان کے متعلق ہمیں کس طرح جوابی کارروائی کرنی چاہئے۔طریقہ کار جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہی ہے کہ خدا کی طرف واپس جانا ہوگا ، یہی خلاصہ ہے جو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اللہ کے بغیر کوئی حفاظت نہیں اور اللہ تک پہنچنے کے لئے نماز سے بہتر کوئی وسیلہ نہیں ہے۔خدا کو دیکھنے کا اپنے اندراحساس پیدا کرو ان دو باتوں کے علاوہ اب میں تفصیل سے یہ بتارہا ہوں کہ خطرات کی نشاندہی کریں کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں پہلے سے متنبہ کر رکھا ہے کہ شیطان ایسی اطراف سے، ایسی سمتوں سے ایسے لباس میں حملے کرتا ہے کہ تم اس کو دیکھ نہیں رہے ہوتے۔پس دو ہی وجود ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے اس قسم کے لفظ استعمال کئے ہیں کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اُسے نہیں دیکھ رہے۔ایک خدا ہے جس کے متعلق بار بار ہمیں بتایا گیا کہ دیکھوتم نہ بھی دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تم اس سے غافل نہ رہنا اور دوسری طرف انتہا پر یہ بتا دیا گیا کہ شیطان بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ رہے یعنی اکثر آنکھیں بند کر لیتے ہو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس لئے تم جو مرضی کرتے پھرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ شعور پیدا کرو، خدا کو دیکھنے کا اپنے اندر احساس پیدا کرو، اپنی فکر کی نظر سے، اپنے جذبات کی نظر سے تم بھی خدا کو دیکھنے کی کوشش کرو اور اس پہلو سے جتنی رؤیت بڑھے گی اتنا زیادہ تم حفاظت میں آتے چلے جاؤ گے۔دوسری طرف شیطان کو دیکھنے کی کوشش کرو سمجھو کہ وہ کس طرف سے حملہ آور ہوتا ہے عام دنیاوی زبان میں یہ ایسا ہی مضمون ہے کہ تمہیں پتا ہونا چاہئے کہ تمہارے حفاظت کے سامان کہاں واقع ہیں، کہاں تمہاری بندوقیں، کہاں تمہارے ہتھیار ، کہاں تمہارے ساتھ کے مددگار، کون سے مضبوط قلعے ہیں جن میں تم محفوظ ہو سکتے ہو وغیرہ وغیرہ اور دوسری طرف یہ پتا ہونا چاہئے کہ تمہاری کمزوریاں کون کون سی ہیں ، کہاں سے دشمن حملہ کر سکتا ہے۔نقب کہاں سے لگ سکتی ہے کیسے ڈا کہ پڑ سکتا ہے کون سے غفلت کے ایسے لمحات ہیں جن میں عام طور پر انسان سو جاتا ہے اور دشمن بیدار ہو جاتا ہے تو مضمون یہی ہے جو بیان ہوا ہے لیکن مذہبی اصطلاحوں میں وہ باتیں کی گئی ہیں۔پس آپ کو شیطان کے متعلق نگاہ رکھنی چاہئے کہ کہاں سے حملہ آور ہو گا ان باتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے میں نے ایک مثال دی ہے ایک آپ پر اور آپ کی نسلوں پر حملہ کرے گا کہ تم بالغ ہو چکے ہو آزاد ہو خدا کا قانون اب تمہیں پابند نہیں کر سکتا تمہاری خاندانی روایات کی اب کوئی قیمت نہیں رہی جو چاہو کرتے پھرو۔یہ جھوٹ ہے جس کے متعلق بچوں کو سمجھانا ضروری ہے یہ ایسا جھوٹ ہے جس کے متعلق بہت چھوٹی عمر سے بچوں متنبہ کرنا ضروری ہے اور سمجھا کر ان کو ہم خیال بنانا ضروری ہے ورنہ اگر پہلے سے ہی ان کی ذہنی تیاری آپ نے نہ کی تو وہ ہاتھ