سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 17
17 شامل ہونے کا موقع نہیں ملا۔پہلے میں خدام الاحمدیہ کے کاموں میں مصروف رہا۔پھر دوسرے کاموں میں مصروف رہا اس لئے بالکل تجربہ نہیں تھا کہ اس مجلس کے کیا آداب ہیں؟ اس کو کس طرح چلانا ہے؟ اس وجہ سے پریشانی تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ نام تو لگ جاتے ہیں جس کے ذمہ کام لگایا جاتا ہے۔ورنہ جماعت کے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے اور ساری جماعت ایک وجود کے طور پر ہے جو تمام پاک کوششوں میں شامل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کارکنوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے کسی نہ کسی حیثیت سے محض اللہ تعاون فرمایا اور یہ مجلس پہلے سے آگے بڑھتی رہی۔ایک دور کا سوال نہیں ہے ہر دور میں یہ مجلس آگے بڑھے گی میں آپ کو یہ بتادیتا ہوں کہ آگے بڑھنا آپ کے مقدر میں لکھا ہوا ہے ہر اگلے دور میں محسوس ہوگا کہ یہ مجلس پچھلے دور سے آگے بڑھ گئی لیکن نہ پچھلوں کا قصور ہوگا نہ اگلوں کی خوبی ، حقیقت یہ ہے کہ جس قوم کے مقدر میں آگے ہی آگے جانا ہے اس نے آگے بڑھنا ہے اس کے لئے کبھی ٹھہرنے کا وقت نہیں آئے گا نہ آپ کیلئے آ سکتا ہے نہ انشاء اللہ تعالیٰ آئیگا۔اللہ تعالی ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہمارے اعمال اس راہ میں حائل نہ ہو جائیں کیونکہ جہاں تک تقدیر الہی کا تعلق ہے وہ یہی ہے۔" روزنامه الفضل ربوہ 8 جون 1983ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کے جو طریق بتائے ہیں ان پر عمل کرنے سے فتح و نصرت لاز ما قدم چومے گی جب انصار جوان ہونے کا ارادہ کرتے ہیں تو خدا کے فرشتے اوپر سے جوانی کا حکم دے دیتے ہیں کہ ہو جاؤ جوان ! مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 7 نومبر 1982 ء سے اختتامی خطاب ) اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان اور کرم ہے۔کہ ہر پہلو سے مجلس انصار اللہ کا یہ اجتماع خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہا اور پہلے اجتماع کی نسبت بڑھ کر رہا۔افتتاحی تقریر میں میں نے آپ سے یہ گزارش کی تھی کہ اگر چہ چند پہلوؤں سے گذشتہ سال سے یہ اجتماع پیچھے ہے لیکن عمومی طور پر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نمایاں ترقی نظر آ رہی ہے۔اس دوران معلوم ہوتا ہے مجلس مرکز یہ نے پھر کچھ کوشش کی ہے اور کچھ اعداد وشمار کی دوبارہ چھان بین کی گئی ہے۔اس وقت جو نتیجہ سامنے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے