سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 16

16 جواب کو سننے کے بعد بے اطمینانی کا اظہار ہوا ہو۔بلکہ ہمیشہ شرمندگی میں سر جھکتے دیکھے ہیں۔اسلام عورت کو زیادہ بلند مقام دیتا ہے دوسرے عورت کے مقام کے متعلق پوچھا جاتا اور یہ سوال ہمیشہ عورتوں کی طرف سے ہوتا تھا عورتیں پر یس کی نمائندہ بہت کثرت سے ہوتی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان تھی کہ پریس کی مجلس کے دوران جوابات کے بعد وہ نمائندگان بلند آواز سے اقرار کرنے لگتی تھیں کہ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ اسلام عورت کو زیادہ بلند مقام دیتا ہے۔اور پریس کی طرف سے اتنا کھلم کھلا اقرار حیرت میں ڈال دیتا تھا۔پریس کانفرنسیں ہی نہیں ہوئیں بلکہ بہت سی ایسی مجالس بھی منعقد ہوئیں جن میں معززین کو بلایا جاتا تھا بے تکلفی سے باتیں ہوتی تھیں اور میں محسوس کرتا تھا کہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ایک پاک تبدیلی پیدا ہو رہی ہے اور یورپ میں ایک خاص ہوا چلی ہے جو دلیل کو سننے کے لئے ان کو آمادہ کر رہی ہے اور ان کے اندر خطرات کے احساس کو بیدار کر رہی ہے۔اسی لئے طبیعت میں بڑی فکر پیدا ہوتی تھی کہ ہماری کوششیں اس کے مقابل پر کچھ بھی نہیں ہیں ہمیں لازماً ان کوششوں کو تیز کرنا پڑے گا لا ز ما واقفین کی تعداد بڑھانی پڑے گی اور بکثرت اپنے بوڑھوں، بچوں، جوانوں اور عورتوں کو اس میدان میں جھونکنا پڑے گا۔کیونکہ جب مطالبے بڑھ جائیں تو ان کو بہر حال پورا کرنا پڑے گا اور ہمیں پورا کرنا پڑے گا۔ہمارے سوا ہے ہی کوئی نہیں ہمیں چنا ہے اللہ تعالیٰ نے ان مطالبوں کو پورا کر نے کیلئے اس احساس کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرماتا تھا کئی قسم کی سکیمیں ذہن میں داخل فرماتا تھا ان کو بیان کرنے کی توفیق بخشتا تھا اور ان کو قبول کرنے کے لئے جماعت میں ایک رو چلا دیتا تھا۔پس یہ چند باتیں ہیں جو میں یہاں مختصر ا عرض کر سکتا ہوں جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا آپ کی بھوک آپ کو یاد کرا رہی ہوگی اور مجھے اگر چہ بھوک تو نہیں ہے لیکن یہ یاد ہے کہ کھانا بہر حال کھانا ہے۔باقی باتیں انشاء اللہ کل سہی۔میں آپ کا بہت ممنون ہوں آپ نے بڑی محبت کے ساتھ اور بڑے پیار کے ساتھ سلوک فرمایا اب بھی اور اس سے پہلے بھی جب تک انصار سے وابستہ رہا ہوں بہت ہی غیر معمولی تعاون فرمایا ہے۔حالانکہ میری کوئی حیثیت نہیں تھی میری کوئی بساط نہیں تھی میں یہاں تھا ہی نہیں جب آپ نے مجھے صدر چنا تھا اس وجہ سے میں اپنے آپ کو بڑا اوپر محسوس کرتا تھا۔عمر کے لحاظ سے اگر چہ بوڑھا تو تھا لیکن اپنے آپ کو بوڑھا ماننے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے بھی اوپر ا لگتا تھا کہ بوڑھا بھی بنوں بلکہ بوڑھوں کا صدر بن کے بیٹھ جاؤں اور دوسرے اس لئے کہ مجھ سے پہلے جیسا کہ آپ کو علم ہے میرے بڑے بھائی مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب بہت لمبا عرصہ تک انصار کی صدارت فرماتے رہے ہیں اور مجھے کسی مجلس عاملہ میں بھی