سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 286

286 دیں۔پہلا خصوصی پیغام تو یہی ہے کہ اللہ مبارک فرمائے اور کثرت کے ساتھ انصار کو اس میں شمولیت کی اور اس اجتماع سے استفادہ کی توفیق بخشے۔اجتماع میں شمولیت سے ایک رونق سی پیدا ہو جاتی ہے، دلوں میں ولولے سے اٹھتے ہیں اور انسان دو تین دن کے عرصہ میں ہی وقتا فوقتا بلکہ ساتھ یہ ساتھ ایمان میں ترقی کرتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اجتماع کے دوران دلوں کی جو کیفیت ہوتی ہے اگر وہ سارا سال رہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت بہت تیزی کے ساتھ ترقی کرے گی۔پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان کیفیات کی حفاظت کیا کریں، یہ مقدس امانتیں ہیں جو آپ کو جماعتی اجتماعات کے موقع پر عطا ہوتی ہیں خواہ وہ جلسہ سالانہ ہو یا دیگر ذیلی تنظیموں کی تقریبات ہوں سب احمدیوں کا یہ تجربہ ہے کہ دلوں میں غیر معمولی طور پر ایک تموج پیدا ہو جاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو پہلے سے بہت زیادہ جماعت کے قریب پاتا ہے اور نیکیوں کے قریب پاتا ہے تو ان کی حفاظت کے لئے اس تموج کی حفاظت ضروری ہے۔بعض نیکیاں ایسی ہیں جو انسان کو سنبھال لیتی ہیں اور حفاظت کرتی ہیں ، بعض نیکیاں ایسی ہیں جن کی حفاظت کرنی پڑتی ہے تب وہ حفاظت کرتی ہیں ایسی نیکیوں میں سے قرآن کریم نے نماز کی مثال دی ہے جیسا کہ میں نے گذشتہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ حفظوا عَلَى الصَّلَواتِ (البقره: 239) تم نماز کے ساتھ ایسا سلوک کرو کہ تم نماز کی حفاظت کرو اور نماز تمہاری حفاظت کر رہی ہو۔پس بہت سی ایسی نیکیاں ہیں جو حفاظت چاہتی ہیں اور مسلسل حفاظت چاہتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں آپ کو ان کی طرف سے بھی مسلسل حفاظت ملے گی اور اس کا آخری تعلق دل کے جذبہ سے ہے اور ولولہ سے ہے اگر ولولہ جھاگ کی طرح اٹھے اور جھاگ کی طرح بیٹھ جائے۔دو تین دن کے اندر سمٹ کرو ہیں جو لانی دکھائے اور وہیں ختم ہو جائے تو ایسے ولولہ سے مستقل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر ایسے اجتماع کے وقت ہر فرد کو جو حصہ لے رہا ہو اس کو کچھ نہ کچھ فیصلے کرنے چاہئیں اور ان فیصلوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ہر اجتماع کے موقع پر ہر شخص اگر یہ سوچے کہ میں نے جولذت پائی تھی اسے ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے کیا طریق ہے تو ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان نمازوں میں باقاعدہ ہو جائے۔اجتماع کا نماز کے ساتھ جو تعلق ہے اس پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے اجتماع کا نماز کے ساتھ جو یہ تعلق ہے اس پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اگر اجتماع اللہ کی خاطر نہیں اور جو سرور آپ حاصل کر رہے ہیں وہ خدا کی خاطر نہیں تو اس اجتماع کا ولولہ ایک جھوٹا ولولہ ہے اس کو زندہ رکھنے کی ضرورت بھی کوئی نہیں ایسے اجتماع کا ولولہ تو ہر میلے پر پیدا ہوتا ہے بلکہ بعض میلوں پر جانے والے جانتے ہیں کہ ان کو دینی اجتماعات کے مقابل پر میلوں میں شامل ہونے کا بہت زیادہ مزا آرہا