سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 287

287 ہے۔پس سب سے پہلے میری نصیحت یہ ہے کہ اپنے اس ولولے کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ آپ کو خدا کے قرب کی وجہ سے لذت آئی تھی، نیکیوں کے قریب ہونے کے نتیجہ میں لذت ملی تھی یا محض اس لئے کہ ایک ہنگامہ تھا ایک رونق تھی ، اچھی نظمیں پڑھی گئیں۔اچھی تقریریں ہوئیں اور ایک ذہنی لطف اٹھا کر آپ اپنے گھروں کو واپس لوٹے اگر قرب الہی کا احساس ہے اگر یہ احساس ہے کہ نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ کر دن رات نیکی کی باتیں کر کے بہت مزا آیا ہے تو پھر لازماً اس جذبہ کی حفاظت ہونی چاہیئے اور یہ حفاظت نماز کر سکتی ہے اور کوئی چیز نہیں کر سکتی کیونکہ نماز میں روزانہ پانچ دفعہ آپ کو بار باران ولولوں کا اعادہ کرنا ہوتا ہے، پانچ مرتبہ خدا کے حضور حاضر ہونا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنا ہوتا ہے، ان تعلقات کو دن بدن بہتر بناتے چلے جانا ہے اگر ایسا ہو تو نمازیں زندہ رہتی ہیں۔ایک معنی حفاظت کا یہ بھی ہے کیونکہ حفاظت کا شعور اور توجہ سے گہرا تعلق ہے ،غفلت اگر ہو تو حفاظت نہیں رہتی۔میرا زندگی بھر کا یہ تجربہ ہے کہ نمازوں میں اگر ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی بات پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو نمازوں سے انسان پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ پانچ وقت کی نماز جہاں ایک نعمت ہے وہاں ایک پہلو سے اس میں ایک خطرہ بھی مضمر ہے جو چیز بار بار اسی طرح ویسے ہی جذبات کے ساتھ کی جائے اس سے طبیعت میں اکتاہٹ پیدا ہو جاتی ہے، اس سے غفلت پیدا ہو جاتی ہے، اس سے نیندسی آنے لگتی ہے اور انسان کوشش کرتا ہے کہ رسمی طور پر اس چیز سے گزر جاؤں اور پھر اپنے دلچسپ مشاغل کی طرف لوٹوں۔یہ جو انسانی کیفیت ہے یہ اس بات کی مظہر ہے اور قطعی شہادت دے رہی ہے کہ آپ نے نماز کی حفاظت نہیں کی کیونکہ آپ نماز سے غافل ہو رہے ہیں اور جب آپ نماز سے غافل ہورہے ہوں تو حفاظت ہو ہی نہیں سکتی۔حفاظت کا مضمون ہمہ وقت بیداری کا مضمون ہے حفاظت کا مضمون بتاتا ہے کہ اپنی نماز میں ہمیشہ ایسا تنوع پیدا کرتے چلے جائیں کہ اس میں ایک تازگی پیدا ہو، ایک لذت پیدا ہو، نماز سے ایک نیا تعارف حاصل ہو اور وہ جا گا ہواشعور نماز کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر نماز آپ کی حفاظت کرتی ہے۔اجتماع کے موقع پر خواہ وہ کیسا ہی اجتماع ہو جماعت کا کہہ لیں یا ذیلی تنظیموں کا، انسان کو ان باتوں پر غور کرنے اور ان تجارب کے نتیجہ میں کچھ مستقل فیصلے کرنے کا ایک موقع ضر وریل جاتا ہے۔یوالیس اے مغربی تہذیب کی سب سے بلند و بالا چوٹی ہے میرا یہ مشورہ ہے کہ یونائیٹڈ سٹیٹس میں جو اجتماع ہو رہا ہے وہاں خصوصیت کے ساتھ اس ریزولیوشن کی ضرورت ہے، یہ عہد باندھنے کی ضرورت ہے کہ ہم روز مرہ خدا کے قریب ہونے کی کوشش کریں گے کیونکہ خدا کے قریب ہونے کی کوشش تو ہر جگہ ضروری ہے لیکن بعض جگہ یہ زندگی اور موت کا بہت زیادہ مسئلہ بن جاتی ہے۔ایسے غریب معاشرے جہاں خدا سے بد کانے اور دور ہٹانے کے سامان کم ہیں وہاں غفلت کے نتیجہ میں