سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 280
280 ساتھ کوئی زبان بھی اثر کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی۔کسی لمبی چوڑی تیاری اور محنت کی ضرورت نہیں ہے۔صرف تاریخ کے اپنے ان اوراق کو کھولیں اور دیکھیں تو سہی کہ پہلے لوگ کیسے تھے اور کیا تھے؟ کن کن خاندانوں کے بزرگ کن کن قربانیوں کے بعد احمدیت میں داخل ہوئے اور احمدیت میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے کیا کیا قربانیاں دیں، کس طرح وفا کے اعلیٰ نمونے دکھائے ، کس طرح آخری سانس تک وہ خدا کے ہور ہے اور خدا ہی کی خاطر وہ جیئے اور خدا ہی کی خاطر مرے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے ذکر کو زندہ کرنا ضروری ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جو بے وفائی نہیں کیا کرتے۔شاذ کے طور پر بہت ہی کم ارتداد کے کچھ نمو نے ان نسلوں میں ملتے ہیں اور وہ بھی اس وجہ سے کہ ان کے اندر دین داخل ہی نہیں ہوا تھا۔دنیا کی خاطر یا کسی اور دھو کے میں آکر وہ دین میں داخل ہوئے ، خالی آئے اور خالی واپس چلے گئے لیکن بہت کم مثالیں ہیں۔بھاری مثالیں وہ ہیں جو آخر وقت تک باوفا ر ہے اور ثابت قدم رہے لیکن آگے نسلوں میں آپ کو وہ بات یا دکھائی نہیں دیتی یا بعض نسلیں دین سے سرک کر دور ہٹ چکی ہیں اور کوئی رابطہ نہیں رہا۔پس آج ضرورت ہے کہ ان کو کھینچ کر واپس لایا جائے اور ان کو خدا کی طرف واپس لانے کے لئے بہترین طریق اللہ تعالیٰ نے ہمیں سمجھا دیا ہے ان سے خالی خدا کی بات کر کے دیکھیں ان میں کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔کئی ایسے لوگ ہیں جن سے میرا رابطہ ہو چکا ہے یعنی صوبہ سرحد کے دورے کرتا رہا ہوں، بنگلہ دیش کے دورے کرتا رہا ہوں اور سیالکوٹ وغیرہ کی ایسی کئی دیہاتی جماعتیں ہیں وہاں دوروں پر میں نے رابطہ کر کے دیکھا ہے کہ جو خشک سے ہو چکے ہوں، جن کے دل بجھ چکے ہوں، جن میں ولولہ باقی نہ رہا ہو۔ان سے براہ راست خدا کے متعلق باتیں کریں، نصیحت کریں کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اگر ان کو یہ بتائیں کہ تمہارا باپ فلاں تھا اور یہ یہ کیا کیا کرتا تھا۔تمہارے باپ نے احمدیت کے لئے یہ قربانیاں دیں تو ان کی آنکھوں میں ایک شمع سی جلنے لگتی ہے، اچانک ایک جان پیدا ہو جاتی ہے، انہاک پیدا ہو جاتا ہے اور اس ذکر کے ساتھ پھر اللہ کے ذکر کی طرف ان کو منتقل کریں تو وہ بڑے شوق اور ذوق کے ساتھ آپ کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے ان مردہ دلوں کو زندہ کرنے کا ایک راز ہمیں سکھا دیا ہے۔صوبہ سرحد میں احمدیت صوبہ سرحد میں خصوصیت کے ساتھ ایسی بہت سی نسلیں پھیلی پڑی ہیں اور پنجاب میں اور بنگال میں اور اس طرح بعض دوسرے ممالک میں بھی موجود ہیں مثلاً یوگنڈا ہے جس میں آج اجتماع ہو رہا ہے وہاں بڑے بڑے، دین کے لئے عظیم الشان قربانی کرنے والے، خدمت دین میں منہمک رہ کر زندگی گزارنے والے وجود تھے اور ان کی تاریخ سے یوگنڈا کی تاریخ روشن ہے لیکن آگے اولا دیں یا ٹھنڈی پڑ گئیں یا کسی وجہ سے پیچھے ہٹ گئیں اور بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے جماعت سے تعلق کلیۂ تو ڑ لیا، بعض ایسے ہیں جو ایسا تعلق