سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 276

276 خطرناک جوڑ ہے جو دوصدیوں کا بھی جوڑ ہے اور نسلاً بعد نسل تیسرا جوڑ بنتا ہے اور اس جوڑ کی اگر ہم نے حفاظت کی اور ان آیات کے مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اپنی آئندہ نسلوں کے نگران ہوئے تو انشاء اللہ تعالیٰ پھر ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔صلوۃ کی حفاظت کے متعلق بھی میں ذکر کر چکا ہوں۔آئندہ بھی انشاء اللہ اس مضمون پر روشنی ڈالوں گا۔شہوات کے مضمون کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے میرا خیال ہے کہ آئندہ انشاء اللہ تربیتی خطبات دوں گا۔آج محض یہ ذکر ہی کافی ہے کہ یہ دو خطرات کے نشان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر ہمارے سامنے کھول کر بیان فرما دیا ہے اور تنبیہ کر دی ، اب آگے ہم پر ہے کہ ہم چاہیں تو تنبیہ کو نظر انداز کر کے اپنے لئے ہلاکت کی راہ اختیار کر لیں خواہ اس تنبیہ سے فائدہ اٹھائیں اور راہ راست پر قائم رہیں۔اس ضمن میں بہت سی ایسی نصیحتیں کی جاسکتی ہیں جن کے پیش نظر جماعتیں اپنی نسلوں کی حفاظت کرتی ہیں اور سارا قرآن کریم اس مضمون سے بھرا پڑا ہے لیکن میں نے آج خصوصیت کے ساتھ ایک آیت کو چنا ہے تا کہ اس مضمون کو کچھ آگے بڑھاتے ہوئے اس آیت کی روشنی میں آپ کو نصیحت کروں کہ کیسے نئی نسلوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔تربیت کی جان صفات الہیہ ہیں قرآن کریم نے جو بہت سے ذرائع بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک ذریعہ ذکر کا ہے۔وہ لوگ جو اپنے آبا و اجداد کا ذکر زندہ رکھتے ہیں ان کے آباؤ اجداد کی عظیم خوبیاں نسلاً بعد نسل قوموں میں زندہ رہتی ہیں اور لوگ جو اللہ کا ذکر زندہ رکھتے ہیں صفات الہیہ قوموں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں اور تربیت کی جان صفات الہیہ ہے۔پس اس پہلو سے اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کی ویسی ہی تربیت کرنا چاہتے ہیں جیسی پہلی نسلوں کی ہم نے دیکھی اور پہلی نسلوں نے ہماری کرنے کی کوشش کی، تو ایک مرکزی نصیحت کا نکتہ جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اس کو پلے باندھ لیں اور اس پر دل و جان سے عمل کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقره: 201) کہ جب تم مناسک حج سے فارغ ہو جایا کرو تو فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُمْ پھر تم اللہ کا ویسے ہی ذکر کیا کرو جیسے تم اپنے آباء کا کرتے ہو او أَشَدَّ ذِكْرًا بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر ذکر۔حج کے وقت یوں معلوم ہوتا ہے جیسے انسان خدا کی گود میں ہے اور ہر طرف سے نیکیوں نے اس کو گھیرا ہوتا ہے۔حج سے فارغ ہونے کے بعد پھر دنیا میں واپس لوٹتا ہے اور اس وقت خطرات درپیش ہوتے ہیں، ان خطرات سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ ذکر الہی پر زور دو اسی طرح ذکر کرو جس