سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 271

271 خود اس کے لئے نصیحت بن جایا کرتا ہے۔آج نہیں تو کل اُس کے دل میں ضمیر کے کچو کے اتنا زخم پہنچا دیتے ہیں کہ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتا اور اُس کو لازماً ان سے بچنے کے لئے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی پڑتی ہے۔ذیلی تنظیموں کے نمائندے خشک نصیحت نہ کریں۔یہ فائدہ کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے پس خدام الاحمدیہ کے عہدیدار ہوں یا دوسرے جماعتی عہد یدار یا دوسری ذیلی تنظیموں کے نمائندے یاد رکھیں خشک نصیحت بریکار چیز ہے اور خشک نصیحت بعض دفعہ فائدے کی بجائے نقصان پہنچا دیتی ہے، نفرتیں پیدا کر دیتی ہے۔اپنی نصیحت کو پہلے پہچانیں۔اُس کا تجزیہ کریں اور غور کریں کہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ مجھے بھی خدام الاحمدیہ کے مختلف عہدوں پر خدمت کرنے کا موقع ملا ہے مجھے یاد ہے کئی دفعہ مجھ سے بھی غلطی ہوا کرتی تھی۔کسی ایسے کو نصیحت کی خدام الاحمدیہ کی نمائندگی میں جو مر تبہے اور مقام میں اور عمر میں ، میرے رشتہ داروں میں یا دوسرے، مجھ سے بڑا ہوتا تھا اور وہ اگر تحقیر سے دیکھ کر اُس کو ر ڈ کر دیتا تھا تو یہ احساس ہوتا تھا کہ اس کا میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ خیال آتا تھا کہ اُس کو نیچا دکھایا جائے۔پکڑ کے کسی بڑے سے شکایت کر کے مجبور کیا جائے۔یہ خیال ایک باطل خیال ہوا کرتا تھا۔جوں جوں تجر بہ بڑھا اور عمر بڑھی تو یہ احساس نمایاں طور پر پیدا ہونے لگا کہ وہ حالت ایک غفلت اور گناہ کی حالت تھی جس میں انسان نے اپنی نصیحت نہ سننے والے کے خلاف ایک قسم کی رعونت اختیار کی بظاہر اس کو رعونت کا طعنہ دیا مگر جب دل میں یہ جذ بہ پیدا ہوا کہ میں اس کا سر نیچا کر کے دکھاؤں گا۔یہ کون ہوتا ہے؟ نظام جماعت کی بات نہ مانے۔میں نمائندہ ہوں نظام کا ، اسے میری عزت کرنی چاہئے تھی۔وہیں نصیحت اثر سے بریکار ہو جائے گی اور آئندہ بھی اس میں کوئی پھل نہیں لگے گا کیونکہ وہاں اپنے نفس کی رعونت نے سراٹھا لیا اور اُس نصیحت پر قبضہ کر لیا ہے۔نصیحت رحمت سے بندھی ہونی چاہئے پس نصیحت رحمت سے باندھی جانی چاہئے ، اس کی جڑیں رحمت میں پیوستہ ہونی چاہئیں۔رحمت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی نصیحت سے تو غم پیدا ہو، غصہ پیدا نہ ہو اور قرآن کریم کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، سیرت نبوی کا مطالعہ ہر پہلو سے کر کے دیکھیں ، اشارہ بھی کہیں آپ کو ایک جگہ بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ نظر نہیں آئے گا کہ آپ نے غصے اور تحقیر کے ساتھ نصیحت نہ سنے والوں کا بدلہ اتارنے کی تمنا کی ہو، اُن کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہو۔گہرے غم کا ذکر ملتا ہے اور اتنے گہرے غم کا قرآن کریم میں اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) اے محمد! تو اپنے وجود کو ہلاک کر لے گا کہ اس غم میں کہ وہ ایمان نہیں لا ر ہے یہ ظالم۔