سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 270
270 اور اُن کے کام آسان ہو جائیں گے۔نصیحت والی باتیں عہدیداران پہلے اپنی ذات میں پیدا کریں دوسری بات اسی تعلق میں یہ ہے کہ خود اپنی ذات میں وہ باتیں پیدا کریں جن سے آپ کی نصیحت میں زیادہ طاقت پیدا ہو۔تمام تفصیلی محرکات تو میں بیان نہیں کرسکتا، وجوہات جن سے یہ طاقت پیدا ہوتی ہے۔لیکن ایک چیز جو میں بارہ بیان کر چکا ہوں اور وہ مرکزی نقطے کی حیثیت رکھتی ہے۔وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا رحمۃ للعلمین ہونا نصیحت کے لئے رحمت ضروری ہے کوئی نصیحت جو رحمت سے عاری ہوگی۔وہ اثر نہیں دکھا سکتی ہے۔بعض دفعہ قرآن کریم کی آیت پڑھتے ہوئے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کا کلام ہے مان تو لیتے ہیں مگر یہ بات ٹھیک دکھائی نہیں دیتی۔وہ بات یہ ہے کہ فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذكرى ( الاعلى : 10) نصیحت کر ضرور نصیحت فائدہ دے گی۔پس بعض لوگ سوچتے بھی ہوں گے مگر مجھ سے بھی کئی دفعہ پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم نے لکھا ہے سر ادب سے جھکتا ہے ضر ور صحیح ہو گا مگر ہم تو نصیحتیں کرتے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک دفعہ میں نے پہلے بھی ایسے لوگوں کو سمجھایا تھا یعنی خطبے کے ذریعے ، اب میں پھر سمجھتا ہوں کہ فَذَكِّرُ انْ نَفَعَتِ الذِکری میں خصوصیت سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا گیا۔عام نصیحت نہیں ، مطلب یہ کہ ہر شخص کی نصیحت اثر نہیں دکھاتی۔بعض نصیحتوں سے لوگ بد کتے ہیں اور بھاگتے ہیں اور الٹی منافرت پیدا ہوتی ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا اے محمد ، اے میرے بندے! جس نے مجھ سے تربیت کے انداز سیکھے ہیں، تو نصیحت کر میں تجھے یقین دلاتا ہوں کہ تیری نصیحت کبھی بیکا نہیں جائے گی۔اس لئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کا منبع رحمت تھی۔وہ نصیحت جو رحمت کے منبع سے پھوٹتی ہو وہ کبھی بیکار نہیں جاسکتی۔وقتی طور پر اگر بے اثر دکھائی بھی دے تو کچھ عرصے کے بعد اُس کا اثر ضرور ظاہر ہوگا۔مائیں جب بچوں کو نصیحت کرتی ہیں اُس کا اور اثر ہوا کرتا ہے۔مقابلہ ایسے باپ جواکثر باہر رہتے ہیں اور بچوں سے براہ راست تعلق نہیں اُن کی نصیحت کا اور اثر ہوتا ہے، دوسرے رشتہ داروں کی نصیحت کا اور ہے ، گلی میں چلتے پھرتے کسی شخص کی نصیحت کا اور اثر ہے اور اثر میں کمی یا زیادتی کا مرکزی نقطہ رحمت میں کمی یا زیادتی ہے۔اگر ایک شخص میں محبت پائی جاتی ہو، پیار پایا جا تا ہو، جوکسی شخص کو نصیحت کرے در ددل کے ساتھ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اس شخص کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اس کی تکلیف میں شامل ہو تو ایسا شخص اگر بُرائی میں اس طرح گھیرا گیا ہے کہ اُس کی نصیحت کو نہیں مان سکتا۔تب بھی اُس کے دل میں ایک زخم سا لگ جائے گا۔اُس کو ایک پریشانی سی لاحق ہو جائے گی کہ اُس نے مجھ سے نیک بات کہی تھی اور میں عمل نہیں کر سکتا۔یہ دکھ