سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 267 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 267

267 سمت کی لہریں ڈال گئی ہے۔دوسری دن دوسری سمت سے چلی ہے ان لہروں کو بدل کر اس نے ان کا رُخ بدل دیا نئی سمت کی لہریں بن گئیں۔کبھی جھکڑ اس طرح چلتے ہیں کہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا کھڑی سی بن جاتی ہے۔تو ایسا شخص جو نیک نصیحتوں کو اس طرح قبول کرتا ہے جیسے ریت ہواؤں کے اثر کو قبول کرتی ہے اس کی قبول کرنے کی صلاحیت کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوتا ، وہ بغیر شک کے مٹ جایا کرتی ہے لیکن بعض ایسے لوگ ہیں جن کو ایک چھوٹی سی بات بھی اس طرح گہرا اثر کر جاتی ہے کہ ان کے دل کی ان مٹ تحریر بن جایا کرتی ہے۔ان کی زندگیاں اس پیغام سے پھر ہمیشہ فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں اور ہمیشہ تبلیغ ہوتی رہتی ہے۔بڑے لوگوں کے واقعات پڑھیں بڑے لوگوں کے واقعات آپ پڑھیں ، ان کی زندگیوں کے سرگزشت خواہ خود انہوں نے لکھی ہو یا کسی نے لکھی ہو ان کو پڑھ کر دیکھیں آپ کو بسا اوقات یہ معلوم ہوگا کہ ایک انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے بڑا مرتبہ عطا کیا جب اس سے پوچھا جائے کہ بتاؤ کس چیز نے تمہیں اتنی لمبی اور اتنی مسلسل ایک ہی سمت میں جاری و ساری محنت پر آمادہ کیا۔تو وہ سوچ کر تمہیں یہ بتائے گا کہ فلاں وقت یہ واقعہ ہوا تھا، میں بچہ تھایا میری اتنی عمر تھی ، میں نے یہ نظارہ دیکھا تھا اور وہ پیغام ایسا میرے دل پر نقش ہوا کہ پتھر کی لکیر بن گیا اور ہمیشہ اس نے مجھے آئندہ میرے نشو و نما کے زمانے میں میرا مقصد یاد کرایا، میرا رخ معین کیا اور مجھے اس محنت پر آمادہ کرتا رہا اس کی طاقت بخشتار ہا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل کے ساتھ اس مقام پر پہنچایا ہے۔پس ایسے دل پہلے بنا ئیں جو ان تحریکات کو جو وقتا فوقتاً آپ کے دل میں ضرور اٹھتی ہیں اور ہر مبلغ کے دل میں اٹھتی ہیں ، ان کو مستقل کر دے، ان کو دائمی بنا دے، اس بات کی ضمانت دے کہ یہ نیک تحریکات جو آپ کے دل میں اٹھتی ہیں وہ ضائع نہیں جائیں گی۔چنانچہ فرشتوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اُن میں ایک یہ بات بھی ہے کہ فرشتے جب نیکی کی تحریک کرتے ہیں تو بعض دل ہیں جو ان کو قبول کر لیتے ہیں اور پھر ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بعض دل ہیں جو متاثر ہوتے ہیں اور پھر ان کو بھول جاتے ہیں۔اور وہ وقتی طور پر ایک لذت کو محسوس کرتے ہیں لیکن وہ دائمی لذت نہیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نیکی کی طرف کئی ٹھوس اقدام کرنے کی توفیق بخشی ہے وہاں اس ضروری قدم کی طرف بھی آپ متوجہ ہوں گے۔آپ میں سے ہر ایک خودا اپنی تربیت کی کوشش کرے گا اور اپنی تربیت کی کوشش میں وہ جماعت سے جس حد تک مدد ممکن ہے طلب کرے گا۔یہ نہیں ہوگا کہ مربی پیچھے پھرتا رہے کہ تم اس سے یہ بات حاصل کرو، وہ بات حاصل کرو بلکہ شاگر دمر بی کے پیچھے پھرے اور کہے مجھے وقت دو میں نے یہ بھی تم سے سیکھنا ہے اور یہ بھی سیکھنا ہے۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 367-370)