سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 266
266 جائے وہ بچے اپنی ضد نہیں چھوڑتے اپنا مطالبہ نہیں چھوڑتے۔پس دل کا یہی حال ہے۔عقل اگر ماں باپ کا مقام رکھتی ہے، عقل زبان رکھتی ہے، عقل سمجھتی ہے اور سمجھانا جانتی ہے۔تو دل بھی اپنی زبان رکھتا ہے اور اپنے طور طریق ہیں جن کے ذریعہ یہ دوسرے کو بات سمجھا دیا کرتا ہے۔اور دل کے سمجھانے کے طریق ایک معصوم بچے کی طرح اس کی بے چینی اور بیقراری ہے۔پس ایک انسان جسے اپنی کمزوری کا احساس ہو اور وہ احساس بے چینی میں بدل جائے۔اس احساس کے نتیجے میں وہ نہ دن کو چین پائے نہ رات کو چین پائے وہ ضرور کچھ نہ کچھ دماغ کو آمادہ کر کے چھوڑے گا کہ وہ اس کے لئے کچھ کرے۔پس وہ لوگ جو علمی ترقی کرتے ہیں ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی مدرسے میں تعلیم پائیں۔بہت سے ایسے احمدی میرے علم میں ہیں جنہوں نے خود اپنی تربیت کی ہے اس لئے کہ ان کا دل پہلے تڑپا تھا، ان کے دل نے اس بات کو محسوس کیا تھا کہ جو مقام اور مرتبہ مجھے عطا ہوا ہے اس کے مطابق مجھے علم نہیں ہے اور اس لحاظ سے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔چنانچہ اس وجہ سے ان کے دلوں میں شوق پیدا ہوئے انہوں نے از خود منتیں کیں، خود پڑھنا شروع کیا ، اپنی کمزوریوں کو دور کیا ، اگر دلائل میں کمزور تھے تو دلائل کی طرف توجہ کی غرضیکہ مربی دل میں پہلے پیدا ہوتا ہے۔تب انسان حقیقت میں علمی اور دینی تربیت حاصل کرتا ہے۔اگر دل سے وہ مطالبہ نہ پیدا ہو دل سے کسی چیز کی تڑپ کی آواز سنائی نہ دے تو باہر سے لاکھ کوشش کی جائے ایسے شخص پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔انصار کی تربیتی کلاسز میں حاضری کم ہونے کی وجوہات معلوم کریں خدام الاحمدیہ کی تربیتی کلاسز لگا کرتی ہیں، انصار اللہ بھی کرتے ہیں، لجنہ بھی ، کتنے ہیں جوان میں آتے ہیں؟ کتنے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ وہ چند گنتی کے لوگ جن کے دل میں پہلے سے ہی احساس ہوتا ہے کہ ضرورت ہے۔جب آواز پہنچتی ہے کہ ایسا انتظام ہو گیا ہے تو وہ شوق سے مزے سے اس میں حصہ لیتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کے دل میں مربی پیدا نہیں ہوتا ان تک لاکھ آواز میں پہنچائی جائیں ، ہر خطبے میں اعلان ہو بلکہ ہر نماز میں بھی اعلان کیا جائے تو ایسے لوگ جن کے دل کے اندر سے طلب پیدا نہیں ہوتی وہ سنی ان سنی کر کے وہاں سے گزر جاتے ہیں اور ان کو کوئی پیغام نہیں ملتا۔کوئی فیض ان کو نہیں ملتا۔پس میں جب کہتا ہوں کہ جماعت سپین کو اب یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ اپنے اندر مربی پیدا کرو۔تبلیغ کے جو کام شروع کئے ہیں اس کے دوران جو خامیاں ہمیں نظر آئی ہیں کسی باہر سے آنے والے نے وہ خامیاں تمہیں نہیں بتانی تبلیغ کے دوران تمہیں خود معلوم ہوگا تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ کس علمی کمی کو تم نے محسوس کیا ہے، کس دینی تربیت کی کمی کو تم نے محسوس کیا ہے۔یہ احساس ایک ایسا احساس ہے جسے ان مٹ بنانا ضروری ہے کیونکہ ایسا احساس تو ہر شخص کو کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ بعضوں کے احساس آئے اور مٹ گئے جیسے ریت پر لکھی ہوئی تحریریں ہوا کرتی ہیں۔آج آندھی ایک طرف سے چلی ہے ایک