سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 15
15 اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی اور ہمت عطا کی۔لوگ سمجھتے تھے کہ میں تھک گیا ہوں گا لیکن مجھے تو پتہ ہی نہیں لگتا تھا کہ تھکاوٹ کیا چیز ہے، حالانکہ بعض دفعہ ایسا پروگرام ہوتا تھا کہ بظاہر تھک جانا چاہئے لیکن اس میں کوئی تکلف نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے خود بخود ایک طبعی طاقت پیدا فرما دی تھی جس کے نتیجہ میں تھکاوٹ کا کوئی احساس نہیں رہتا تھا اور ساتھ ساتھ ایسی روحانی غذا ملتی تھی جو درحقیقت ایک توانائی پیدا کر رہی تھی ، جومستغنی کر رہی تھی ہر دوسرے آرام سے مثلا جب ہم جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جلد جلد ہونے والی پاک تبدیلیاں دیکھتے تھے ( پہلے بھی وہ ایک پاک جماعت ہے اس میں کوئی شک نہیں۔اس کے باوجو دروحانی ترقی کے میدان میں تو کوئی آخری منزل نہیں ہے ایک منزل کے بعد دوسری دوسری کے بعد تیسری۔یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔) جب احمدی احباب کونئی منزلیں طے کرتے دیکھتے تھے تو دل اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ بھر جاتا تھا۔بارہا ایسے نظارے دیکھے ہیں کہ ایسے نوجوان جو پہلے نمازوں میں سست تھے (جیسا کہ بعد میں انہوں نے خود ذکر کیا کہ ہم تو پانچ وقت نمازیں بھی نہیں پڑھا کرتے تھے ) تہجد میں حاضر ہونے لگے۔بڑے درد اور کرب کے ساتھ دعائیں کرنے لگے اور دعاؤں کیلئے کہنے لگے اور ان کی دعاؤں کی درخواست یہ نہیں ہوتی تھی کہ ہمیں دنیا ملے۔دعا کی درخواست یہ ہوتی تھی کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دین احمد کے لئے فدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ وہ روحانی غذا ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔یہ جسم کے انگ انگ کو سہلاتی تھی تسکین پہنچاتی تھی اور نئی طاقت اور توانائی سے بھر دیتی تھی۔پھر غیروں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کے فضلوں کے نظارے دکھائے بسا اوقات ایسا ہوا کہ پریس کا نفرنس میں بڑی معاندانہ نظروں سے دیکھا گیا بعض اوقات تو وہ اس طرح Cross examine کرتے تھے کہ منہ سے تو نہیں کہتے تھے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو مگر سمجھتے یہی تھے کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ان کی گفتگو سے ایسا معلوم ہوتا تھا تعداد کے اوپر Criticism کرتے ہر بات جو ہم بیان کرتے تھے اس کو بڑی تنقیدی نظر سے دیکھتے تھے لیکن رفتہ رفتہ رنگ بدل جاتا۔دیکھتے دیکھتے ان کی طبیعتیں نرم پڑ جاتی تھیں اور ملائم ہو جاتی تھیں۔آنکھوں میں ادب آجا تا تھا اور محبت پیدا ہو جاتی تھی۔دوحر بے جو بارہا استعمال کئے گئے دونوں نے ہی ہمیشہ الٹا اثر دکھایا ان کے نقطہ نگاہ سے ایک تو خمینی صاحب کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا تھا۔جب وہ دیکھتے تھے کہ اسلام کی رد سے ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور اثر پیدا ہورہا ہے تو با قاعدہ ایک محادلے یا مناظرے کی شکل بن جاتی تھی۔پریس کانفرنس تو محض نام تھا۔پھر وہ خمینی صاحب تک پہنچ جاتے تھے اس کا اللہ تعالیٰ نے جو جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی وہ میں انشاء اللہ کل ذکر کروں گا۔محض اس غرض سے کہ تا آپ کو معلوم ہو کہ بعض باتوں کا جواب کس طرح دینا چاہئے کیونکہ وہ جواب میں نے مؤثر دیکھا اور یورپ کے ہر ملک میں ہر مجلس میں مؤثر دیکھا ایک بھی ایسی جگہ نہیں جہاں اس