سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 265

265 اُس سے یہ کام ہونا نہیں ہے اور کوشش ضرور کرے تب وہ خدا کے حضور عاجزانہ گرے اور کہے کہ اے خدا تو طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنے والا نہیں ہے اور مجھ پر بھی وہ بوجھ ڈال جس کی طاقت عطا فرما تا چلا جائے۔جب اس طرح محسوس کر کے دعا کی جائے گی تو غائب سے ایسے ہاتھ تو دیکھے گا جو غائب کا ہاتھ نہیں رہے گا بلکہ ظاہر ہو گا اور اُس کے بوجھ اٹھائے گا اور اُس کے بوجھوں کو ہلکا کر دے گا اور وہ اپنے کاموں کو پہلے سے زیادہ بڑھ کر روانی اور عمدگی کے ساتھ اور سلاست کے ساتھ ادا کرنے کی اہلیت اختیار کرتا چلا جائے گا۔" خطبات طاہر جلد 11 صفحہ 856-858) ہر ناصر اپنی ذات میں خود مربی بنے اور دوسروں کو اس طرف ترغیب بھی دلائے خطبات جمعہ 29 مئی 1992 ء ) " اب ضرورت ہے کہ اس جماعت کو خود اپنی تربیت کی طرف توجہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔اس بارے میں ان کو سمجھایا جائے کہ سب سے اچھی تربیت وہی ہوتی ہے جو انسان خود کرے۔جس کے دل میں ایک مربی پیدا ہو جائے ، جس شخص کو یہ محسوس ہو کہ میرے سپر د بڑے بڑے کام ہو چکے ہیں اور میں کرنا شروع کر چکا ہوں لیکن میرے اندر پوری استطاعت نہیں ہے، میں پوری طرح ان کا موں کا اہل نہیں ہوں تبلیغ کرتا ہوں لیکن میرا دینی علم کمزور ہے، نیکی کی تعلیم دیتا ہوں لیکن بنیادی کمزوریاں ہیں۔عبادت کی طرف سے غافل ہوں یا نماز پڑھتا ہوں تو ترجمہ نہیں جانتا۔لوگ مجھ سے پوچھیں گے کہ نماز کیا ہے تو میں کیا سمجھاؤں گا۔یہ وہ سوالات ہیں جو خود بخود ایک مبلغ کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور اس سفر کا ایک لازمی حصہ ہیں۔پس اب ضرورت ہے کہ جماعت کو اس اہم شعبے کی طرف متوجہ کیا جائے یعنی خود اپنی تربیت کا شعبہ اور جماعت کو سمجھایا جائے کہ باہر کا مربی ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک انسان کے اپنے دل میں ایک مربی نہ پیدا ہو جائے۔اپنی علمی کمزوری کی طرف توجہ ہو اور دل اس بات پر بار بارز ور لگائے اور اپنی ذات میں آپ سے احتجاج کرے اور کہے کہ مجھے کچھ بتاؤ میں کیا کروں۔میرے لئے کچھ کرو کیونکہ مجھے موجودہ حالت پر چین نہیں آتا۔دل کا یہ کام ہے، دل کی زبان بظاہر گونگی ہے علمی لحاظ سے تفاصیل میں نہیں جاتا لیکن بہت ہی پیارا کام ہے جو یہ کرتا ہے۔مچلتا ہے، بیقراری کا اظہار کرتا ہے، مطالبے کرتا ہے خواہ وہ بالکل سادہ ستھرے، خواہ معمولی زبان میں مطالبے ہوں یا زبان نہ بھی ہو تو ان کے مطالبوں کا مطلب سمجھ آ جاتا ہے۔چھوٹے بچے جن کو بولنا نہیں آتا جب وہ اپنی ماؤں سے مطالبے کرتے ہیں تو زبان سے تو نہیں کیا کرتے وہ اپنے چھوٹے سے بستر پہ تڑپتے ہیں، ٹانگیں مارتے ہیں، روتے ہیں، چیتے ہیں۔ماں کا کام ہے سمجھے اور جب تک وہ سمجھ نہ