سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 258

258 میں پیشگوئیاں کی جارہی تھیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول نے اس مضمون پر جو خطبات دیئے اُن میں اس حصے پر روشنی ڈالی۔آپ نے فرمایا دیکھو میں خدا کو جواب دہ ہوں اور تم لوگ مجھے جواب دہ ہو۔جب میرے علم میں تمہاری غلطی آتی ہے تو میں پکڑوں گا اور یہ نہ سمجھو کہ میں کسی پکڑ سے بالا ہوں۔جب خدا نے یہ سمجھا کہ میں اس لائق نہیں رہا تو وہ مجھے اٹھا سکتا ہے۔پس خدا کا عدل دنیا سے واپس بلا لینا ہے نا کہ اس دنیا میں کسی کو اختیار دینا کہ وہ خلیفہ وقت کو منصب سے ہٹا دے۔پس جہاں خدا تعالی کی پکڑ ہے وہاں اور بھی امور ہیں جو کارفرما ہیں۔خدا تعالیٰ ضروری نہیں کہ ہر غلطی پر ایسی پکڑ کرے تو اُس کے نزدیک ایسے شخص کا بلانا ضروری ہو جائے۔نہ یہ مطلب ہے کہ ہر خلیفہ وقت جس کی موت واقع ہو اُس نے کوئی غلطی کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے واپس بلا لیا اس لئے یہاں غلطی سے اس مضمون میں اپنے دماغ میں الجھنیں نہ پیدا کر دیں۔ہر شخص نے مرنا ہے۔موت غلطی کی علامت نہیں ہے مگر یہ مضمون حضرت خلیفہ مسیح الاول بیان فرمار ہے ہیں۔وہ یہ ہے کہ تم کسی خلیفہ کو معزول نہیں کر سکتے صرف خدا ہے جو معزول کر سکتا ہے اور خدا کا عدل یہ ہے کہ وہ اُس کو واپس بلانے کا فیصلہ کر لے گا۔پھر یہ معاملہ اس کے ہاتھ میں ہے کیوں بلایا گیا ہے؟ دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کی نظر صرف کمزوریوں پر نہیں ہوتی بعض دوسرے پہلوؤں پر بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ وہ مہلت بھی دیتا ہے، بخشش کا بھی سلوک فرماتا ہے اس لئے نہ بلانے کا بھی یہ مطلب نہیں بنتا کہ وہ شخص غلطی سے پاک ہے۔غلطیاں ہو سکتی ہیں اور استغفار کا مضمون بھی جاری رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر جہاں کمزوریوں پر پڑتی ہے وہاں بعض خوبیوں پر بھی پڑتی ہے۔اُن کے امتزاج کے نتیجے میں کچھ فیصلے ہور ہے ہوتے ہیں اور کچھ بخشش اور کچی تو بہ کے نتیجے میں بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر بن رہی ہوتی ہے یا کسی کے خلاف بگڑ رہی ہوتی ہے۔یہ مضامین وہ ہیں جن کا ملاء اعلیٰ سے تعلق ہے۔بندے اور اللہ کے درمیان جو قصے چلتے ہیں، جو رشتے بنتے ہیں یا بگڑتے ہیں اُن پر انسان کی نظر نہیں پڑ سکتی اس لئے اس کو خدا تعالیٰ پر ہی رہنے دینا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر توکل رکھنا چاہئے۔جو بھی فیصلہ ہو گا وہ درست ہو گا لیکن جہاں بندوں کے رشتے آپس میں بن جائیں وہاں بہت سی باتیں کھل کر سامنے آ جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایک بخشش کا معاملہ سامنے آتا ہے لیکن انسان کو یہ اختیار ہوتا ہے کیونکہ جس سے بخشش کی توقع ہے وہ امین ہے وہ مالک نہیں ہے۔خلیفہ وقت پر اعتما درکھیں وہ خدا کی طرف سے حفاظت یافتہ ہے پس اس پہلو سے میرا تعلق جو جماعت میں عہدیداروں سے ہے اس میں بعض دفعہ جب مجھے تختی کرنی پڑتی ہے تو اس سختی سے بھی درگزر کرنی چاہئے کیونکہ وہ میری بے اختیاری کی علامت ہے۔میرے دل کی سختی کی علامت نہیں وہ بے اختیاری یہ ہے کہ میں مالک نہیں ہوں امین ہوں۔اللہ تعالیٰ نے کچھ ذمہ داریاں ڈالی ہیں اُن کو جس حد تک میں سمجھتا ہوں جس طرح ادا ہونی چاہئے اسی طرح ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔