سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 240

240 بشارت دو اعلان عام کردو کہ خدا کے فضل کے ساتھ یہ ساری نعمتیں تمہیں عطا ہونے والی ہیں۔اس کے بعد فرماتا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ - جس تجارت کا ذکر گزرا ہے اس تجارت کے لئے اپنے آپ کو وقف کردو۔كُونُوا اَنصارَ اللهِ تم خدا سے نصرت چاہتے ہو تو خدا کی نصرت تو کرو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ نصرت کے لئے خدا کے حضور حاضر کر دو یعنی اپنی سب طاقتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نصرت کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری نصرت فرمائے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو انسان اپنی ساری زندگی کے روز مرہ تجربہ میں دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے اگر کوئی شخص اپنا سب کچھ آپ کے حضور پیش کر دے تو فطری تقاضا ہے کہ آپ اپنا سب کچھ اس کو پیش کرنا چاہیں لیکن جب میں فطری تقاضا کہتا ہوں تو مرادان لوگوں کا فطری تقاضا ہے جن کی فطرت سلیم ہو ، جن کی فطرت پر میل نہ پڑ گئی ہو، جو وہی فطرت رکھتے ہوں جس فطرت پر پیدا کئے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر انسان کو صحیح سچی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی صورت پر انسان کو پیدا کیا ہے۔پس یہ جو مضمون ہے کہ اللہ کی فطرت پر انسان پیدا کئے گئے اس مضمون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر آپ کی فطرت صحیح ہو اور اس میں دنیا کی ملونی کی وجہ سے گندگی شامل نہ ہو گئی ہو تو خدا تعالیٰ آپ سے جو سلوک کرے گا اسے پہچاننے کے لئے اپنے نفس کو پہچانیں۔جو سلوک آپ خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں یہ دیکھیں کہ آپ وہ سلوک لوگوں سے کس صورت میں کیا کرتے ہیں اور لوگ وہ سلوک آپ سے کب کیا کرتے ہیں۔پس اپنے نفس کو پہچاننے کے ذریعہ تم خدا کو پہچان سکو گے اور خدا تعالیٰ سے تعلقات کو درست کر سکو گے۔پس یہ وہی مضمون ہے جو بیان فرمایا گیا پہلے فرمایا کہ نصرت تمہیں ضرور عطا ہوگی اگر تم وہ تجارت کرو جس کی طرف تمہیں بلایا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ فرمایا گیا کہ اس تجارت کے لئے شرط ہے کہ خدا کی خاطر مسیح کے انصار بنو۔جو لفظی ترجمہ ہے وہ یہ ہے مَنْ أَنْصَارِی اِلَى اللهِ کہ اللہ کے مسیح نے کہا کہ کون ہے جو میرے انصار بنیں اللہ کے لئے۔تو مراد یہ ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام تو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح جو مسیح مہدی ہوگا۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تمام دوسرے ادیان پر غالب کرنے کے لئے آئے گا تمہیں اس کا انصار ہونا پڑے گا اور انصار بھی دل و جان کے ساتھ جو کچھ تمہارے حضور ہے، تمہارے پاس ہے اس کے حضور حاضر کرنا ہو گا اپنی جان کے تھے بھی پیش کرنا ہوں گے۔اپنے اموال کے بھی تھے پیش کرنا ہوں گے اور دن رات یہ گن لگانی ہوگی کہ ہم جس طرح بھی بس چلے اور جو کچھ بھی ہمارا اختیار ہے ہم نصرت دین کے لئے اپنے آپ کو ناصر بنادیں اور خدا کی راہ میں ہم جو کچھ بھی خدمت کر سکتے ہیں وہ بجالائیں۔