سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 239
239 ذکر کیا گیا لیکن ان فوائد کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے سے ہے۔یعنی آخرت سے ہے۔دور کے فوائد ہیں اگر چہ وہ دور ہر انسان کے قریب بھی ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ کس وقت وہ مر کر خدا کے حضور حاضر ہو جائے گالیکن جو لوگ اس دور میں مگن رہتے ہیں ان کو وہ دنیا جو مرنے کے بعد نصیب ہوتی ہے بہت دور دکھائی دیتی ہے۔پس پہلے وہ فوائد بیان کئے جو حقیقی ہیں، جو اصلی ہیں جو لا زما نصیب ہوں گے اور ہمیشہ کے لئے ہوں گے اور اولیت ان ہی کو ملنی چاہئے لیکن پھر دنیا کے فوائد کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تمہیں جو برکتیں اس جہاد سے نصیب ہوں گی وہ صرف مرنے کے بعد نہیں ہوں گی بلکہ اس دنیا میں اپنی آنکھوں سے،اپنے جیتے جی تم اُن برکتوں کو دیکھ لو گے اور وہ کیا ہیں فرمایا: وَ أُخْرَى تُحِبُّونَهَا اور ایک دوسری بڑی کامیابی تم کو یہ نصیب ہو گی جو تم دل و جاں سے چاہتے ہو اس سے تمہیں محبت ہے یعنی نَصْرُ مِنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِيبُ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں نصرت عطا ہوگی اور فتح تمہارے قریب لائی جائے گی۔وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مومنوں کو بشارت دے دو کہ ایسا ہوگا اور ضرور ہوکر رہے گا۔روحانی تجارت كُونُو اَنْصَارُ اللہ کے حکم میں مضمر ہے اب یہاں نَصْرُ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی جو خوشخبری ہے اسی کی تفصیل سورۃ النصر میں ہمیں یوں ملتی ہے: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًاتی کہ وہ وقت یاد کرو جب تم خدا کی نصرت اور فتح کو دیکھو گے۔جب نصرت اور فتح تمہیں عطا کی جائے گی اور اس شکل میں کہ فوج در فوج لوگ خدا کے دین میں داخل ہورہے ہوں گے اور فرمایا کہ مومنوں کو سب سے زیادہ اس چیز سے محبت ہے۔ہر وقت وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ہو کاش ہم اپنی آنکھوں سے فتح کا وہ دن دیکھ لیں تو فرمایا جس تجارت کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں اس تجارت کے دائمی فائدے تو ہیں ہی جو لا ز ما نصیب ہوں گے لیکن تم تو چاہتے ہو کہ مرنے سے پہلے فتح اور نصرت کا دن بھی دیکھ لو۔اگر یہی تمہاری تمنا ہے، اسی مقصد سے تمہیں دلی محبت ہے تو فرمایا جو تجارت کرنے کے لئے ہم تمہیں ہدایت دے رہے ہیں وہ تجارت کرو۔اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ نصرت اور فتح ضرور عطا فرمائے گا اور یہ یقین دلانے کے لئے فتح کو قریب لا کر دکھایا گیا کہ اگر چہ آخری زمانہ میں فتح دور دکھائی دے گی اور بظاہر ناممکن ہو گا کہ کوئی دور اور ہوگا ایک نسل اپنی آنکھوں سے اس فتح کو دیکھ نے لیکن اگر اس تجارت میں مگن ہو جائے جس تجارت کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ اس فتح کو قریب کیا جائے گا۔وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ مومنوں کو