سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 12

12 بعض جگہ بعض زمینوں میں بعض آب و ہوا میں بعض قسم کے پودے لگتے ہیں۔اور نشو ونما پاتے ہیں لیکن بعض دوسری قسم کی آب و ہوا میں وہی پودے چند دن بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔پس ایسی قومیں جنہوں نے عظیم الشان کام کرنے ہوں جنہوں نے عظیم الشان خدمات بجالانی ہوں جنہوں نے اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنی ہوں ان کے معاشرہ میں لازما سادگی کی آب و ہوا ہونی چاہئے۔ورنہ قیش کی آب و ہوا میں پلنے والے پودے سادگی کی آب و ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتے اور سادگی کی آب و ہوا میں پلنے والے نقیش کی آب و ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتے پس ہمیں اپنا ایک ماحول پیدا کرنا پڑے گا۔اپنی ایک فضا پیدا کرنی پڑے گی۔جس ملک میں بھی ہم رہیں اس ملک کی فضا سے اس حد تک مختلف ہوگی اس میں مذہبی اقدار زیادہ ہونگی اس میں سنجیدگی زیادہ ہوگی اس میں سادگی زیادہ ہوگی اس میں زندگی کی لذتوں کے رُخ مختلف ہوں گے۔لذتیں تو پھر بھی ہم حاصل کرتے رہیں گے۔مگر یہ لذتیں اعلیٰ لذات ہوں گی۔یہ وہ لذتیں ہونگی جو قربانی کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں جو خدمت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں عظمت کردار کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لذتیں دنیا کی لذتوں سے بہت زیادہ بالا اور بہت زیادہ فائق ہوا کرتی ہیں۔اس لئے کسی بے لذت زندگی کی طرف تو آپ کو نہیں بلایا جارہا۔آپ کو زیادہ پاکیزہ زیادہ باقی رہنے والی اور زیادہ عظیم الشان لذتوں کی طرف بلایا جارہا ہے جو آپ کی زندگی پر ایک دفعہ اگر قبضہ کر گئیں تو پھر آپ چاہیں گے بھی تو ان سے نکل کر باہر نہیں جاسکیں گے۔نیکیوں میں بھی لذت ہوا کرتی ہے اور بدی کی لذت سے زیادہ ہوا کرتی ہے اس لئے اپنے معاشرہ میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں مرور زمانہ سے جو بدیاں رفتہ رفتہ ہمارے معاشرہ میں داخل ہو گئی ہیں ان کی بیخ کنی کا کام شروع کریں بیاہ شادی پر بعض بد رسوم ہمارے معاشرہ میں داخل ہو رہی ہیں۔اسی طرح بے پردگی پھیلتی جارہی ہے اس کے خلاف ایک جہاد کرنا پڑے گا۔اسی طرح دنیا کی لذتوں کے حصول کے لئے باہمی دوڑ شروع ہوگئی ہے اور ذوق بگڑ رہے ہیں۔یہ دنیا کا حال ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ہماری جماعت اس سے متاثر ہو رہی ہے ہماری جماعت کے لوگ اس قسم کے معاشرہ میں مغلوب ہو جاتے ہیں۔یعنی زیادہ وسیع تعداد کے معاشرہ کے اندر تھوڑی تعداد میں رہتے ہیں۔لازماً ان پر کچھ اثر پڑتا ہے اور رفتہ رفتہ ہمارے کناروں پر بیماری کا اثر ظاہر ہونے لگ جاتا ہے۔قرآن کریم ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے۔فرماتا ہے۔اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو۔اگر تم اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو یعنی بیماری کو باہر جا کر پکڑ واسکو موقع نہ دو۔کہ وہ اندر داخل ہو جائے۔چنانچہ سرحدوں کی حفاظت میں غفلت کے نتیجہ میں بعض دفعہ بیماریاں اندر اتر آتی ہیں یعنی جلد کی بیماریاں خون میں داخل ہو جاتی ہیں۔خون کی بیماریاں گلینڈز میں چلی جاتی ہیں۔پھر زیادہ Vital یعنی نہایت اہم گلینڈز میں داخل ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ جب وہ اور زیادہ زندگی کے اندرڈ ویتی