سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 11
11 بنالیں ان کا وقف قبول نہیں کر سکتے اس کیفیت اور اس شان کے ساتھ جماعت اس سے پہلے وقف کی تحریک میں کئی بار حصہ لے چکی ہے۔مجھے یاد ہے قادیان کے زمانہ میں جبکہ ابھی جماعت کی تعداد بھی بہت تھوڑی تھی حضرت مصلح موعود نے آغاز میں وقف کی تحریک کی تو بڑی کثرت کے ساتھ نام آتے تھے ایسی درد بھری درخواستیں لے کر نو جوان آیا کرتے تھے کہ ان کو پڑھ کر دل پگھل جاتا تھا۔وہ اپنی ہر چیز نذرانہ کے طور پر لے کر حاضر ہو جاتے تھے۔وہ کہتے تھے اے خدا کے خلیفہ ! ہم تیرے حضور حاضر ہیں ہمارا وقف قبول کر۔ہم کبھی کوئی شکوہ زبان پر نہیں لائیں گے جو گزارہ دینگے ہم اس کو قبول کریں گے۔بعض خطوط میں نے بھی دیکھے ہیں ان کو پڑھتے ہوئے آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے اور دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کیسے پیارے عشاق عطا فرمائے ہیں۔پس انشاء اللہ الہی دیوانوں کے ذریعہ سے آج دنیا میں انقلاب بر پا ہوگا۔فرزانوں کے ہاتھوں تو دنیا بہت ویران ہو چکی اور اب بالکل تباہی کے کنارے پر جا کھڑی ہے۔احمدیت کے دیوانوں نے دنیا کو اس تباہی سے بچانا چاہئے۔ہمیں ان دیوانوں کی ضرورت ہے پس ہمیں ان دیوانوں کی ضرورت ہے۔جو دنیا کی چمک دمک کی پرواہ نہ کریں بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو رد کر دیں اس کو دھتکار دیں اور کہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں خدا کے حضور حاضر ہوں گے۔تیری طرف ہر گز مائل نہیں ہوں گے غرض انصار اللہ کو عمر کے لحاظ سے ایک ایسا مقام حاصل ہے کہ اگر وہ اپنے اپنے ماحول میں خدام کو وقف زندگی کے لئے آمادہ کریں ان کے دلوں میں غلبہ اسلام کے ولولے پیدا کریں۔خدمت دین کی امنگیں پیدا کریں۔تو یہ بھی ان کی طرف سے بہت بڑی خدمت کے مترادف ہے۔بد رسوم کے خلاف جہاد انصاراللہ کے سپرد کرتا ہوں تیسرے نئی نئی بد رسوم کے خلاف جہاد کا کام ہے جسے میں خصوصیت کے ساتھ انصار اللہ کے سپرد کرتا ہوں تحریک جدید کے بہت سے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ دوست اپنی زندگی کو تفتیش سے بچا کر سادگی کی طرف لے آئیں۔دنیا نے آج مختلف زیتوں اور تعیش اور کئی قسم کے لہو ولعب کے سامان ایجاد کر لئے ہیں۔اگر انسان ان میں مبتلا ہو جائے یا کوئی قوم یا معاشرہ ان میں مبتلا ہو جائے تو پھر ان سے اپنا دامن چھڑا کر اپنے آپ کو خدمت کے کاموں کی طرف مائل کرنا بہت مشکل کام ہو جاتا ہے اس لئے خدمت اسلام کی جس راہ پر ہم گامزن ہیں اس کا یہ تقاضا ہے کہ حرام تو حرام بعض حلال چیزیں بھی ہم چھوڑ دیں تا کہ وہ معاشرہ پیدا کیا جا سکے جو ہمارے مقصد کے حصول میں محمد ہو۔ہر ماحول میں ہر قسم کا پھل دار درخت نہیں لگا کرتا