سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 226 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 226

226 بروشرز ، چھوٹے چھوٹے خوبصورت پمفلٹ شائع کر کے ان میں بھی تمام احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا جائے کہ ہمارے پاس یہ یہ چیزیں بھی ہیں۔کبھی آپ کو ضرورت ہو تو ان کو استعمال کر کے دیکھیں اور اس کے نتیجہ میں آپ کے لئے تبلیغ کی راہیں آسان ہوں گی۔خدا کے فضل سے اس وقت تک اتنی زبانوں میں لٹریچر تیار ہو چکا ہے کہ خود وہ لوگ جن کی زبانوں میں لٹریچر ہے وہ جب دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں اور بعض ایسے مخالفین جو اس سے پہلے جماعت کے شدید مخالف تھے انہوں نے جب جماعت کی بعض نمائشوں میں اس لٹریچر کو دیکھا تو بڑے زور کے ساتھ گواہی دی کہ وہ سب جھوٹے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تم مسلمان نہیں ہو کیونکہ اسلام کی اتنی خدمت اور ایسے احسن رنگ میں اسلام کی خدمت کبھی کسی کو دنیا میں اس کی توفیق نہیں ملی۔ان کی مراد اس زمانہ سے ہے نعوذ باللہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو شامل کر کے تو یہ نہیں کہتے، تو کبھی کا لفظ جب بھی کبھی بولتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ ہمارے علم میں ہمارے موجودہ زمانہ میں ہم نے کسی اور کو نہیں دیکھا کہ ایسی خدمت کرتا ہو۔اسی طرح مختلف Embassies ہیں ان کے نمائندے مختلف ممالک میں جا کر احمدی لٹریچر کو دیکھتے ہیں تو غیر معمولی طور پر دلچسپی لینے لگ جاتے ہیں۔لیکن اس سلسلہ میں لاعلمی کی جو کوتاہیاں ہیں ان کا آغاز خود امیر جماعت یا عہدیداران سے ہے مثلاً ان کو سرسری علم تو ہے کہ ہمارے پاس رشین زبان میں قرآن کریم کے تراجم موجود ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ ایک ہیں دو ہیں، تین یا چار ہیں کسی کو دے بھی سکتے ہیں کہ نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پارسل گئے وہ کھل کر کسی جگہ لگ گئے اور مزید تفصیل سے دلچسپی نہیں لی گئی کہ ان کو آگے استعمال بھی کرنا ہے کہ نہیں۔پس معلومات سرسری بھی ہوا کرتی ہیں اور گہری بھی اور گہری معلومات کا تعلق ذاتی دلچسپی سے ہے۔مثلاً اگر مجھے کوئی کتاب آئے تو بعض دفعہ میرا دل چاہتا ہے کہ فوراً جماعت کے صائب الرائے لوگوں کو، دانشوروں کو یہ کتاب ضرور پہنچائی جائے۔ایسی صورت میں بعض دفعہ ان کی فوٹو کا پیز کروا کر امراء کو بھجوائی جاتی ہیں۔بعض اور دانشوروں کو بھجوائی جاتی ہیں کیونکہ مجھے اس میں دلچسپی ہے اور اس بات میں دلچسپی ہے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ دوستوں کو بعض امور کا علم ہو اور ان کے اندر جستجو کا شوق ہو لیکن اگر ایک امیر اس میں دلچسپی نہیں لیتا تو اس کی معلومات سرسری رہیں گی۔اگر وہ دلچسپی لے گا تو مثلاً جب اس کو پتہ چلا کہ آج ہمارے پاس روسی زبان میں قرآن کریم کا تحفہ آیا ہے تو وہ کہے گا کہ کتنے ہیں۔اس سے فائدہ کس طرح اٹھانا ہے۔بعض Russians کی تلاش کی جائے وہ ہیں کہاں؟ ان کو پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔معلوم کیا جائے کہ ان پر کیا تاثرات پیدا ہوتے ہیں لیکن چونکہ بات وہیں ختم کر دی گئی اس لئے مزید معلومات حاصل نہیں کی گئیں۔پھر اچانک مجھے خط ملا ( میں مثالیں دے رہا ہوں نام نہیں لوں گا) کہ آپ نے ہدایت کی تھی کہ