سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 223
223 ہیں ، کہاں قدم رکھتے ہیں کہاں نہیں رکھنے؟ یہ باتیں محاسبہ سے ملتی ہیں۔پس دعا کے بعد جو ہمیشہ اولیت رکھتی ہے اور ہمیشہ اولیت رکھے گی اور پھر ساتھ ساتھ چلے گی آپ کو تبلیغ کا سفر کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔جن جن باتوں کی میں نے نشاندہی کی ہے ان میں بھی محاسبہ کریں اور پھر اس محاسبہ کے بعد منصوبہ بنانے میں اگلا قدم کیا ہونا چاہئے اس کی کچھ تفاصیل انشاء اللہ میں آئندہ خطبہ میں بیان کرونگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ تمام ممالک کے امراء اور ان کے ساتھی ، ان کی مجالس عاملہ خواہ ان کا شعبہ اصلاح وارشاد سے تعلق ہو یا نہ ہو وہ سارے اپنی زندگی کا اعلیٰ مقصد یہ بنالیں گے کہ ہم نے تبلیغی نقطہ نگاہ سے جماعت میں ایک انقلاب برپا کر دینا ہے ایک نئی فضا پیدا کرنی ہے، نئی زمین بنانی ہے، نیا آسمان بنانا ہے کیونکہ اس بوسیدہ زمین اور بوسیدہ آسمان میں تو ہمارے سفر طے نہیں ہو سکتے جس میں آج ہم سانس لے رہے ہیں۔ہماری صلاحیتوں کی اکثریت بریکار بیٹھی ہوئی ہے۔ہم کو خدا تعالیٰ نے نشو و نما کی جو طاقتیں دی ہوئی ہیں ان کو پنپنے کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہے ابھی وہ میسر نہیں ہے۔" خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 889-903) دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کو نصائح خطبہ جمعہ 22 نومبر 1991ء) " گزشتہ خطبہ میں میں نے ذکر کیا تھا کہ آئندہ انشاء اللہ دعوت الی اللہ کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ امرائے جماعت ، صدران اور عہدیداران کو ہدایات دوں گا۔اس مضمون کا براہ راست تعلق تو عہد یداران سے ہی ہے کہ انہیں کس طرح کام کروانا چاہئے۔خطبہ کے لئے میں نے اسے اس لئے چنا ہے کہ یہ کام تو میں بڑی دیر سے کرتا چلا آ رہا ہوں اور جہاں جہاں جس جس ملک میں دورے پر گیا ہوں وہاں ہمیشہ اس موضوع پر کسی نہ کسی جگہ ضرور خطاب کیا ہے اور عہدیداران کو بٹھا کر تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کی ہے، جماعتی عہد یداران کو بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کو بھی کہ انہیں دعوت الی اللہ کا کام کیسے کرنا چاہئے لیکن اس کے باوجود وہ نتیجہ پیدا نہیں ہوا جس کی مجھے لازماً توقع تھی۔ہر ملک کا ایک حال نہیں۔بعض ممالک میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری توقعات سے بھی بڑھ کر نتیجے ظاہر ہوئے کیونکہ جن لوگوں کو مخاطب کر کے میں نے بات کی انہوں نے تقویٰ کے ساتھ انکساری کے ساتھ ، اپنے آپ کو بڑا اور عظمند سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ عاجز بندوں کی طرح نصیحت کو سنا اور اس پر دیانتداری سے عمل کی کوشش کی اور اپنی انا کو