سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 10

10 محبت کرتا تھا ہم ایک حقیقی خدا کے بندے ہیں ہم ایک ایسے خدا کے بندے اور عاشق اور محب ہیں جو سب حقیقوں سے زیادہ بچی حقیقت ہے پس ہمیں اس سے کہیں زیادہ عاجزی اور گریہ وزاری کے ساتھ اپنے نفوس کو خدا کے حضور پیش کرنا چاہئے اور ایسے لوگ کثرت کے ساتھ اپنے نام پیش کریں جو زندگی کا ایک بڑا حصہ دنیا میں گزار چکے ہیں۔ان کے بچے بڑے ہو گئے ہیں۔وہ اپنے آپ کو سنبھالنے لگ گئے ہیں کافی ہو گئی دنیا کی خدمت۔اب سلسلہ کو ختم کرنا چاہئے اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر یہ عہد کریں کہ جو بھی خدمات ان کے سپرد کی جائیں گی وہ ان کو بجالائیں گے اور ذمہ داریوں کو خوشی خوشی اٹھا ئیں گے وہ اپنے آپ کو بڑا ہی خوش قسمت سمجھیں کہ وہ آخری سانس جو لیں گے وہ خدا کی خاطر حاضر ہونے والے انصار کے طور پر سانس لے رہے ہوں گے۔نو جوانوں کو آگے لانے میں انصار کا کردار وقف کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نو جوان آگے آئیں۔اس لحاظ سے بھی انصار بہت بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔کیونکہ انصار عمر کے لحاظ سے جماعت کا وہ گروہ ہے جن کے بچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ان کے ساتھ خلوص اور عقیدت رکھتے ہیں ماں باپ یا گھر کے بزرگوں کے طور پر ان کا خاص احترام کرتے ہیں۔اس لئے انصار کی طرف سے کہی ہوئی بات ان کے دل پر خاص اثر کرتی ہے اس لئے انصار کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں اور عزیزوں خواہ وہ ان کے اپنے بیٹے ہوں یا بھائی یا بہن کے بیٹے ہوں ان کو بار بار نصیحت کریں ان کو یہ باور کرائیں کہ وہ سب سے زیادہ امن کی زندگی وقف کی زندگی ہے۔سب سے زیادہ سکینت اور طمانیت کی زندگی وقف کی زندگی ہے۔اللہ تعالیٰ واقفین کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔جو واقفین وفا کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں ان کو خدا کبھی ضائع نہیں کرتا ان کی اولادوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا دنیا بھی پھر ان کے پیچھے چلی آتی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ طمانیت بخش کوئی زندگی نہیں جو خدا کے دین کی خدمت میں صرف ہورہی ہو۔انصار بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں غرض انصار کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔دنیا کے لحاظ سے ان کو زیور تعلیم سے خوب مڑ تین کریں اور پھر ان سے کہیں کہ اب اپنے نام خدمت دین کے لئے پیش کرو۔یہ ایک عمومی تحریک ہے جس میں انصار سلسلہ کی بہت بڑی مدد کر سکتے ہیں۔گھر گھر چرچا کر سکتے ہیں اور ایک نئی رو چلا سکتے ہیں تا کہ اس کثرت کے ساتھ واقفین پیش ہوں کہ ہمیں ان میں سے چناؤ کرنا پڑے یہ خیال نہ ہو کہ واقفین کم ہیں بلکہ یہ احساس ہو کہ واقفین زیادہ آگئے ہیں فی الحال ضرورت اتنی نہیں ہے جب تک ہم ان کے لئے جگہ نہ