سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 215
215 تو خواب اور افسانوں کی حقیقتیں فی ذاتہ تو یہ حقیقتیں نہیں ہیں لیکن اکثر ہماری حقیقتیں جن کو ہم حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں ان کی اپنی حیثیت خواب اور افسانے کی ہوتی ہے۔یہ عمومی کیفیت ہے اس لئے انسان کو کسی مقام اور کسی مرتبے پر جا کر پورے یقین اور وثوق کے ساتھ یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ میرا روشنیوں کا سفر تمام ہوا اور مجھے سب کچھ حاصل ہو گیا۔یہ بجز کا مقام ہے جو انسان کی تعلیم و تربیت کرتا ہے۔دُنیا میں کوئی سفر بھی حقیقی بجز کے بغیر ممکن نہیں اور کوئی سفر بھی روشنی کے بغیر ممکن نہیں ، تو میں عہدیداران سے عاجزانہ طور پر یہ درخواست کرتا ہوں کہ جو کچھ اس مضمون پر ان کو سمجھایا گیا ہے وہ خود بھی سنیں اور توجہ سے سنہیں اور پھر اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور اسی طرح جن لوگوں کو وہ اس کام میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔جن لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں اپنی زبان میں سُنانے کی بجائے میری زبان میں سُنائیں۔یہ کوئی بے وجہ تفاخر کے نتیجہ میں میں ہر گز نہیں کہہ رہا۔ایک ایسی حقیقت ہے جس کو کہنا میرے لئے دشوار ہے کیونکہ میری ذات سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود اپنے حیاء کے جذبات کو قابو کر کے ایک فرض ادا کرنے کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ خلیفہ وقت کو جو باتیں خدا تعالیٰ دینی کاموں سے متعلق سمجھاتا ہے ان کو کہنے کے انداز بھی عطا کرتا ہے اور ان باتوں میں جیسی گہری سچائی ہوتی ہے ویسی دوسرے کی باتوں میں جگہ جگہ کہیں کہیں تو ہوسکتی ہے مگر بالعموم ساری باتوں میں ویسی سچائی نہیں آسکتی اور ویسا اثر نہیں پیدا ہو سکتا۔دوسرے سننے والا ہمیشہ بات کے نتیجہ میں اثر قبول نہیں کیا کرتا بلکہ بسا اوقات کہنے والے کے اثر کے نتیجہ میں اثر قبول کیا کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسانی فطرت کا راز ہے جسے سمجھے بغیر آپ خدمت دین کا حق ادا نہیں کر سکتے۔خلیفہ وقت کی نصیحت دوسری نصیحتوں سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے کلام الہی کا اپنا ایک اثر ہے۔اُسے لاکھ اپنی زبان میں سمجھانے کی آپ کوشش کریں جب تک کلام الہی کے حوالے سے وہ بات نہ سمجھائی جائے وہ اثر نہیں پیدا ہو سکتا۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا ایک اثر ہے جو 1400 سال سے زائد عرصہ گزرا وہ کم ہونے میں ہی نہیں آتا وہ ایسی طاقت ہے جو ہمیشہ کی زندگی رکھتی ہے اور ایسا کلام ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کے بعد اگر کوئی زندہ کلام ہے تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے اور آپ کی برکت سے اور آپ کی غلامی میں پھر یہ طاقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نصیب ہوئی اور اسی لئے میں ہمیشہ زوردیتا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام خصوصاً ملفوظات کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے۔جیسی زندگی بخش طاقت اس زمانے کے مریضوں کے لئے اور کمزوروں اور حیفوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت میں ہے ویسی کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔چند فقرے پڑھنے کے بعد ہی انسان جھر جھری لے