سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 212

212 عہدیداران، اپنا، اپنے کاموں کا اور اپنے طریق کار کا محاسبہ کریں خطبہ جمعہ 15 نومبر 1991ء) اب میں اس مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جو میں نے گزشتہ جمعہ میں شروع کیا تھا یعنی دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں حکمت عملی کو اختیار کرنا کیونکہ قرآن کریم نے ہمیشہ دعوت الی اللہ کے مضمون کے ساتھ حکمت پر زور دیا ہے اور اس کے علاوہ صبر پر زور دیا ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں یہ عرض کیا تھا کہ میں آئندہ انشاء اللہ عہدیداران منتظمین اور امراء کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے ان پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔پس دُعا کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور حکمت کا خلاصہ اور حکمت کی روح ہے کہ دعا کے ذریعہ کام شروع کیا جائے تمام امراء اور عہد یداران جن کا اس دعوت الی اللہ کے کام سے تعلق ہے ان کو میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ بہت دُعائیں کیا کریں اپنے لئے بھی اور اپنے تابع دوسرے خدمت دین کرنے والوں کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو حکمت کے اعلی گوہر عطا فرمائے اور قرآن کریم ایک مومن سے جیسی حکمت کا تقاضا کرتا ہے ویسی حکمت اپنے فضل سے خود آپ کو عطا فرمائے اور آپ کی تبلیغ کارگر ہو، ثمر دار ہو، اور محض ایک کوشش نہ ہو بلکہ ایک نتیجہ خیز کوشش ہو۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اس کے مختلف معانی ہیں۔بہت ہی عارفانہ کلام ہے لیکن ایک معنی یہ بھی تو ہے کہ جو درخت پھل نہ دے وہ بنجر ہی کہلائے گا خواہ آپ اس کی کیسی ہی خدمت کریں۔کیسی اس کی آبیاری کریں۔دیکھنے میں وہ سرسبز وشاداب ہی کیوں نہ دکھائی دے لیکن اگر پھل سے عاری ہے تو وہ درخت کاٹے جانے کے لائق ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔پس اپنے تبلیغی کاموں کو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ پھلوں سے جانچیں اور پھلوں سے جانچنے کے لئے ایک تو پھلوں کی مقدار، تعداد دیکھنی ضروری ہے۔اگر کوششیں بڑھتی چلی جارہی ہیں ،خرچ بڑھ رہے ہیں، آپ محنت کر رہے ہیں ، ساری جماعت بظاہر مستعد دکھائی دیتی ہے، فائلوں کے منہ بھرے ہوئے ہیں، رپورٹوں میں صفحات کے صفحات تبلیغی کارروائیوں پر مشتمل ہیں لیکن جب نتیجہ تک پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہی گنتی کے چند آدمی جو پہلے تھے ویسے ہی اس سال بھی ہیں ویسے ہی اس سے پہلے تھے تو درخت کو پھل سے پہچاننے کی کیوں کوشش نہیں کرتے۔عہدیداران اپنا محاسبہ کریں پس سب سے پہلا کام عہدیداران کا یہ ہے کہ اپنا اور اپنے کاموں کا اور طریق کار کا محاسبہ کریں اور بڑی گہری اور تفصیلی نظر سے دیکھیں کہ وہ اب تک کیا کیا ذرائع استعمال کر چکے ہیں اور کب سے وہ ذرائع