سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 208
208 کرتی ہے اور انہیں بے سہارا نہیں چھوڑتی۔کاش نفرت کی تعلیم دینے والے ملاں بھی کم سے کم اپنے ساتھ منسلک ہونے والے بھائیوں کی ہی ایسے موقعہ پر مدد کیا کریں۔اور ان کو بے سہارا اور بے یار و مددگار نہ چھوڑا کریں۔تاکہ ان کے ماننے والے عامتہ المسلمین پر اس آیت کریمہ کا اطلاق ہو جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے متبعین کے بارہ میں نازل ہوئی : ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا (محمد:12) کہ اللہ مومنوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا اور مشکلات کے وقت اُن کی نصرت فرمائی جاتی ہے۔کاش مذہبی رہنما عامتہ المسلمین کو قومی تکلیفوں اور مصائب میں اس طرح بے یارو مددگار نہ چھوڑ میں تا کہ ان پر آیت کریمہ کا یہ حصہ اطلاق پاتا ہوا دکھائی دینے لگے کہ: خدا کرے کہ ہمارے سب مسلمان بھائی اللہ کی ولایت میں آجائیں اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی ان سے وہ سلوک نہ کرے جس کا آیت کے دوسرے حصہ میں ذکر ہے۔“ والسلام خاکسار ( دستخط ) مرزا طاہر احمد خلیفہ ایسیح الرابع هفت روزه بدر قادیان 3 اکتوبر 1991ء) عہدے، ذمہ داریاں ہیں۔اپنی برتری ظاہر کرنے کے لئے اسے استعمال نہ کریں (خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1991ء) الہی جماعت ایک پاکیزہ جماعت ہے۔اس کے سارے معاملات خدا کی خاطر ہوتے ہیں۔عہدے ذمہ داریاں ہیں نہ کہ اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لئے کوئی شخص انہیں استعمال کرتا ہے۔عہد یداری تو ایک بہت ہی بڑا بوجھ ہے۔جن لوگوں نے الہی جماعتوں میں مناصب کی حقیقت کو سمجھا ان میں ایسے بھی پیدا ہوئے جیسا کہ حضرت امام مالک جن کو عہدہ قبول نہ کرنے کی سزا کے طور پر کوڑے مارے گئے اور ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ بعد میں ان کے ہاتھ شل ہو گئے اور وہ اٹھ نہیں سکتے تھے۔اور بھی بہت سے عالم اسلام کے پہلے دور میں جبکہ تقویٰ کا معیار بہت بلند تھا ایسے واقعات نظر آتے ہیں کہ ایک شخص عہدے سے ڈرتے ہوئے تو بہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس عہدے کے لائق نہیں ہوں میرے سپرد نہ کرو اور بادشاہ وقت زبردستی سزادے کر ، بعضوں کو قید کیا گیا ، بعضوں پر کوڑے برسائے گئے ، بعضوں کو اور سزائیں دی گئیں، اور حکماً ان کو مجبور کیا جاتا رہا کہ تم یہ عہدہ قبول کرو۔