سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 197
197 اکرام ہے جو ہم نے اس آیت کریمہ سے سیکھا۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ انقكُمْ۔تمہارا خدا تقویٰ کو عزت دیتا ہے ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ تمہارا خدا تقویٰ کو عزت دیتا ہے۔اگر اس خدا سے تمہیں محبت اور تعلق ہے تو تم بھی ہمیشہ تقومی کو عزت دینا۔اگر سوسائٹی میں تقویٰ کو عزت دی جائے تو تقوی پنپتا ہے اور بڑی عمدگی سے نشو و نما پاتا ہے جیسے بہار میں پورے جو پہلے مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ از خود نئی نئی کونپلیں نکالنے لگتے ہیں۔نئے رنگ ان پر ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح تقومی کے لئے ایک ماحول کی ضرورت ہے اور یہ ماحول جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔یہ تقویٰ کی افزائش میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں جیسا کہ بہار ہو یا برسات ہو تو بعض غلط جڑی بوٹیاں بھی سر نکالنے لگتی ہیں ایسے ماحول میں بعض دفعہ دنیا دار لوگ بھی نیکی کے لبادے اوڑھ کر ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں نمائش آجاتی ہے اور وہ تقویٰ کو بعض دفعہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ایسی عورتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو پیر بنتی ہیں اور ان کی جو ایجنٹس ہیں وہ مشہور کرتی ہیں کہ فلاں بی بی جو ہے وہ بڑی نیک ہے وہ اتنی تہجد پڑھتی ہے اتنی نمازیں پڑھتی ہے کسی ضرورت کے وقت اس کے دربار میں حاضری دو گے مرادیں پوری ہوں گی۔یہ مرض بڑھ کر پھر قبر پرستی تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ایسے خطرناک اڈوں سے پناہ مانگنی بھی ضروری ہے اور بعض باتیں جو بچے تقویٰ اور دکھاوے کے تقویٰ میں تفریق کرنے والی ہیں ان کو آپ پیش نظر رکھیں۔مجھے یاد ہے حضرت مصلح موعود اس معاملے میں بڑی ہی باریک اور نگران نظر رکھتے تھے۔اس لئے بعض لوگ جن کی طرف لوگوں کا رجحان ہوتا تھا اس پر وہ سخت رد عمل دکھایا کرتے تھے اور بعض لوگ جن کی طرف لوگوں کا رجحان ہوتا تھا اس پر نہ صرف یہ کہ رد عمل نہیں دکھاتے تھے بلکہ خود بھی ان کو دعاؤں کے لئے لکھتے تھے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ، حضرت مولوی شیر علی صاحب، حضرت مولوی سرورشاہ صاحب ، اسی قسم کے کثرت سے اور بزرگ تھے، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، جن کو حضرت مصلح موعود ہر موقعہ پر دعا کے لئے لکھا کرتے تھے اور محبت اور احترام سے پیش آتے تھے اور جہاں تک توفیق ملتی تھی ان کی خدمت بھی کیا کرتے تھے یعنی عام خدمتوں کے علاوہ بھی ان سے محبت اور ہدیے دینے کا تعلق بھی رکھتے تھے لیکن بعض لوگ جو نیکی کے نام پر سر اٹھاتے تھے ان پر وہ اس طرح برستے تھے جس طرح آسمان سے بجلی کڑک کے ٹوٹتی ہے اور بڑے سخت ان کے بارے میں پریشان ہو جاتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی آنکھ اللہ کے نور سے دیکھتی تھی اور آپ جانتے تھے کہ کہاں فتنہ پیدا کرنے والی نیکی ہے جو بظاہر نیکی ہے لیکن حقیقت میں تقویٰ سے عاری ہے اور کہاں سچا تقویٰ ہے۔اس کی ایک اور پہچان بھی جو عام نظر سے بھی سامنے آجاتی ہے