سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 195
195 ورثہ تھا جو ان نسلوں نے پایا تھا۔اس ورثے کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔اب وہ دور آ گیا ہے جس دور میں اس ورثہ کو دوبارہ بڑھانا چاہئے کیونکہ تمام دنیا میں پھیلنے والی جماعتوں نے یہ ورثہ از خود اپنے آباؤ اجداد سے نہیں پایا۔اس لئے میں نے لفظ سرمایہ کاری استعمال کیا۔یہ جماعت احمدیہ کا بہت ہی قیمتی سرمایہ ہے اور تعداد کے مقابل پر یہ سرمایہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اس لئے اس سرمائے کو بڑی حکمت کے ساتھ اور بڑی محنت کیساتھ دانش مندی سے بڑھانا چاہئے اور حرکت میں لانا چاہئے۔پس امراء اور عہدیداران اگر یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ تقویٰ کو عزت ملنی چاہئے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سرمایہ دوبارہ نشو ونما پانے لگے گا اور جماعت پھر اس پہلو سے بہت ہی متمول ہوتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ ہم اس دور کی تمام نسل کو اس پہلو سے اتنا متمول اور غنی کر دیں کہ آئندہ آنے والی نسل پھر شکر کے ساتھ ان کی طرف دیکھے جس طرح ہم نے بڑے ہی شکر کے ساتھ جھکی ہوئی نگاہوں سے اپنی پہلی نسلوں کو دیکھا تھا اور اس بات کو ہمیشہ دل میں جانشین کیا کہ ہم ان کی دولتوں کا سرمایہ حاصل کرنے والی نسل ہیں۔ویسا ہی آج کی نسل خدا کرے کہ اس پہلو سے اتنی متمول ہو جائے کہ وہ آئندہ آنے والی تمام نسلوں کو جو ساری دنیا میں کہیں بھی ہوں ان کو یہ سرمایہ عطا کرنے والی نسل بنے اور یہ سرمایہ ان کے ہاتھوں میں چھوڑ کر جانے والی نسل بنے۔اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بعض خطرات بھی ہوتے ہیں یا ریا کاری بھی بعض دفعہ شروع ہو جاتی ہیں اور تصنعات بھی آجاتے ہیں ، بعض اور بھی کئی قسم کے ایسے خطرات اُبھرتے ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے لیکن اس سے پہلے میں مختصراً آپ کو بتا تا ہوں کہ قادیان کا معاشرہ تھا کیا؟ سشمس الدین کی مثال ایک ایسا عجیب معاشرہ تھا جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں۔وہاں ایک غریب مزدور جو سارا دن محنت کر کے اپنا پیٹ پالتا تھا، بچے تھے تو ان کی نگرانی بھی اسی محنت سے کرتا تھا، وہ بعض دفعہ اپنی نیکی کی وجہ سے ایسی عزت کے مقام پاتا تھا کہ بڑے بڑے دنیاوی طبقات سے تعلق رکھنے والے جھک کر اس سے ملتے تھے ، اس کو محبت اور پیار اور اکرام کی نظر سے دیکھتے تھے۔مصافحہ کرتے وقت عزت کے ساتھ مصافحہ کیا کرتے تھے اور دعا کی درخواست کرتے تھے۔ایسے فقیر بھی وہاں تھے جن کی بے حد عزت کی جاتی تھی۔مجھے یاد آیا ہماری مسجد مبارک کے نیچے سیڑھیاں اترتے ہی بائیں طرف ایک چبوترے کے اوپر شمس الدین مرحوم ایک درویش تھے جو مفلوج تھے اور ان کا گزارا بھیک پر تھا لیکن شاید کم ہی دنیا کے کسی بھکاری نے اتنی عزت پائی ہو جتنی بھائی شمس الدین کی عزت کی جاتی تھی کیونکہ یہ بھی ہمارے معاشرہ کا ورثہ تھا کہ چونکہ وہ نیک انسان تھے اور خدا سے تعلق رکھنے والے انسان تھے اور بھکاری اس رنگ کے نہیں تھے کہ بھیک کی خاطر بیٹھے ہوں۔ایک مفلوج